سندھ ہائیکورٹ میں سینیٹری نیپکن پر بھاری ٹیکسز عائد کیے جانے کے خلاف درخواست دائر کر دی گئی۔ عدالت نے فریقین کے ساتھ ساتھ اٹارنی جنرل پاکستان کو بھی خصوصی نوٹس جاری کر دئیے۔
درخواست گزار علیشاہ شبیر کا کہنا ہے کہ سینیٹری نیپکن خواتین کی صحت کے لیے انتہائی اہم ہے اس لیے سینیٹری نیپکن کو بنیادی ضروریات کی اشیاء میں شامل کرنے کی ہدایت کی جائے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ سینیٹری نیپکن کے خام مال کو بھی آٹھویں شیڈول کے تحت رکھا جانا چاہیے تاکہ اس کا فائدہ اصل میں صارفین تک پہنچ سکے بنیادی اشیائے صرف نا ہونے کے باعث ان پر زیادہ شرح سے سیلز ٹیکس عائد ہوتا ہے، بنیادی اشیائے صرف کو عوام کی پہنچ سے دور رکھنا آئین میں دی گئی بنیادی حقوق کی ضمانت کی خلاف ورزی ہے۔
فرحت اللہ یاسین ایڈووکیٹ کے مطابق بنیادی اشیائے صرف کی کیٹیگری میں شامل نا ہونے کے باعث اس پر زیادہ ٹیکسز اور ڈیوٹیز عائد ہیں، انہیں سیلز ٹیکس ایکٹ، 1990 کے چھٹے شیڈول میں شامل کیا جائے تاکہ انہیں سیلز ٹیکس سے استثنی دیا جاسکے۔
جسٹس عدنان اقبال چوہدری کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے دو ہفتوں میں فریقین سے جواب طلب کرلیا۔
اصغر عمر اے آر وائی نیوز سے بطور کورٹ رپورٹر وابستہ ہیں


