The news is by your side.

Advertisement

رومانوی اداکار سنتوش کمار کو مداحوں سے بچھڑے 37 برس بیت گئے

لاہور: ملکی تاریخ کے پہلے نگار ایوارڈ یافتہ نامور پاکستانی اداکار سنتوش کمار کو مداحوں سے بچھڑے 37 برس بیت گئے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستانی فلم انڈسٹری کے نامور رومانوی اداکار سنتوش کمار نے بے شمار فلموں میں کام کیا اور فلم ’’وعدہ‘‘ میں اداکاری کے جوہر دکھا کر انڈسٹری میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا بھی منوایا۔

انہیں فلم وعدہ میں باکمال اداکاری کے اعزاز میں پاکستان کا پہلا نگار ایوارڈ بھی دیا گیا تھا،وہ 25 دسمبر 1925 کو لاہور میں پیدا ہوئے، اُن کا اصل نام سید موسیٰ رضا تھا۔

سید موسیٰ رضا عرف سنتوش کمار نے اپنے فلمی کریئر کا آغاز فلم ’’آہستہ‘‘ سے کیا،انہوں نے اداکارہ صبیحہ خانم کے ساتھ پچاس سے زائد فلموں میں کام کیا اسی دوران دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہوئے پھر اس فنکار جوڑی نے ازدواجی سفر کا آغاز کیا۔

سنتوش کمار 1950 میں ریلیز ہونے والی پنجابی فلم ببلی میں اُس وقت بطور ہیرو آئے جب اُن کی عمر محض 25 برس تھی ، اسی برس انہوں نے اردو زبان میں ریلیز ہونے والی فلم ’دو آنسو‘ میں بھی بطور ہیرو کردار ادا کیا جسے مداح آج بھی فراموش نہیں‌کرسکے۔

انہوں نے متعدد فلموں میں کام کیا جن میں سے موسیقار، گھونگھٹ، رشتہ، دامن، حویلی، فیشن، دو آنسو، وعدہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔قابل قدر فنی خدمات انجام دینے پر سنتوش کمار کو حکومت نے نگار سمیت بے شمار ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا۔

پاکستانی فلم انڈسٹری میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والا درخشندہ ستارہ 11 جون 1982 کو دنیا سے رخصت ہوا تاہم وہ آج بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں