لاہور : رکن صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ نے انکشاف کیا ہے کہ مومنہ اقبال کے اکاؤنٹ میں 83 لاکھ روپے منتقل کیے اور بہن کی آسٹریلین ڈالرز میں فیسیں بھریں۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ مومنہ اقبال اور مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) ثاقب چدھڑ کے درمیان قانونی جنگ شدت اختیار کر گئی۔
ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ سمیرہ خان کی جانب سے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں جمع کرایا گیا تحریری بیان منظرِ عام پر آ گیا ہے، جس میں اداکارہ اور ان کے خاندان پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ایم پی اے ثاقب چدھڑ نے اپنے بیان میں اعتراف کیا ہے کہ ان کی اداکارہ مومنہ اقبال سے ملاقات سال 2020 میں ہوئی تھی، جس کے بعد انہوں نے اندرون و بیرونِ ملک متعدد سفر اکٹھے کیے اور تمام اخراجات انہوں نے خود برداشت کیے۔
رکن اسمبلی کا کہنا تھا کہ مومنہ اقبال اور ان کے اہل خانہ نے اداکارہ کی سابقہ شادی اور طلاق کی معلومات ان سے چھپائیں۔
ثاقب چدھڑ نے کہا کہ جب انہیں مومنہ کی سابقہ شادی اور طلاق کا علم ہوا تو انہوں نے شادی سے انکار کر دیا اور اگست 2025 میں اداکارہ سے تمام تعلقات مستقل طور پر ختم کر دیے۔
جمع کرائے گئے بیان میں مالی لین دین کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ نے مختلف اوقات میں مومنہ اقبال کے بینک اکاؤنٹ میں 83 لاکھ روپے منتقل کیے۔
اس کے علاوہ اداکارہ کی بہن رمشا اقبال نے بلیک میلنگ کے ذریعے ان سے 10 ہزار آسٹریلین ڈالر وصول کیے، جبکہ انہوں نے رمشا کی یونیورسٹی فیس کی مد میں بھی 13 ہزار آسٹریلین ڈالر ادا کیے۔
لیگی ایم پی اے نے الزام لگایا ہے کہ مومنہ اقبال کے موبائل میں بہت سی ذاتی تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں اور کچھ مشکوک افراد کی جانب سے یہ مواد وائرل کرنے کی دھمکیاں دی گئیں، انہوں نے اداکارہ اور ان کی بہن کو یہ مواد شیئر کرنے سے روکنے کا کہا تھا۔
ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مومنہ کو ان کے شادی شدہ ہونے کا علم تھا (جس کا سی ڈی آر ریکارڈ موجود ہے) لیکن اس کے باوجود وہ ان کی اہلیہ سمیرہ خان کو طلاق لینے پر اکساتی رہی ہیں۔
مزید برآں ثاقب چدھڑ نے الزام لگایا کہ مومنہ اقبال کے منگیتر حمزہ نے انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں، جس کے خلاف چنیوٹ میں ایف آئی آر بھی درج ہے۔
انہوں نے اداکارہ کی جانب سے پولیس اور ایجنسیوں کو دی گئی درخواستوں کو تضادات اور غلط بیانی پر مبنی قرار دیا ہے۔


