The news is by your side.

Advertisement

عدالت کو مذاق نہ بنایا جائے، ڈسپلن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ عدالت کو مذاق نہ بنایا جائے، ڈسپلن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، عدالت کسانوں کے لیے خود اقدامات کررہی ہے، شوگر ملز مالکان کو عدالت طلب کرلیا گیا، کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی کردی گئی۔

تفصیلات کے مطابق کاشتکاروں کو گنے کی قیمت کی عدم ادائیگی کیس کی وقفے کے بعد سماعت ہوئی، سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ پاکستان میں کتنی شوگر ملیں ہیں؟ سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ پنجاب میں 47، سندھ 35، کے پی میں 7 شوگر ملیں ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ تمام شوگر ملوں کے تگڑے مالکان کل آجائیں، مالکان سے اتنا نہیں ہوا کسی وکیل کی خدمات حاصل کرلیں، مالکان کو شاید کوئی انا کا مسئلہ ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مالکان سمجھتے ہیں ملیں بند کردیں گے، میں اپنے لوگوں سے کہوں گا چینی خریدنا بند کردیں، شوگر ملز مالکان کے گھروں میں مہنگی گاڑیاں کھڑی ہیں، ایک شوگر مل سے دوسری، تیسری شوگر مل لگالی گئی ہے، شوگر مل مالکان کاشتکاروں کو اپنا مزارع سمجھتے ہیں۔

ثاقب نثار نے کہا کہ میں شوگر مل مالکان سے ملنا چاہتا ہوں، یہ مشکل کیسے آسان ہوسکتی ہے مجھے معلوم ہے، عدالت کسانوں کے لیے خود اقدامات کررہی ہے، کسانوں کو ہر حالت میں ادائیگیاں ہونی چاہئیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پنجاب حکومت کو اس معاملے میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟ عدالت نے پنجاب حکومت کو نوٹس جاری نہیں کیا، شوگر ملز اور کسانوں کے معاملے پر پنجاب حکومت کدھر سے آگئی۔

چیف جسٹس نے کسانوں کو گنے کی قیمت کی عدم ادائیگیوں پر شوگر ملز مالکان کو طلب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے شوگر مل کے کسی ڈائریکٹر، چیف ایگزیکٹو نہیں بلانا شوگر ملز مالکان ذاتی حیثیت میں پیش ہوکر وضاحت دیں، سپریم کورٹ نے ملک بھر کی شوگر ملوں کو نوٹس جاری کردئیے، کیس کی سماعت جمعرات شام 5 بجے تک ملتوی کردی گئی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں