The news is by your side.

Advertisement

گلاب چہروں پہ رنگ پت جھڑ کے (شاعری)

غزل اور نظم دوںوں اصنافِ سخن میں سارہ خان کی تخلیقات ہمارے سامنے ہیں۔

خوب صورت لب و لہجے کی اس شاعرہ کا تعلق ساہیوال سے ہے۔ تاہم گزشتہ پندرہ برس سے اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ یوں تو زمانہ طالبِ علمی سے شعر کہہ رہی ہیں، لیکن شاعری کا باقاعدہ آغاز چند سال پہلے ہوا اور ان کی تخلیقات مختلف ادبی پرچوں اور ویب سائٹس کی زینت بنیں۔

سارہ خان کی پسندیدہ صنفِ سخن، نظم ہے۔

فیض، ن، م راشد اور محسن نقوی سارہ خان کے پسندیدہ شاعر ہیں۔ ان کی ایک نظم آپ کے شعری ذوق کی نذر ہے

“کمی”
گلاب لہجوں میں دل گزیں سے سراب کیوں کر
گلاب لہجوں میں حسرتیں ہیں
گلاب لہجوں میں خواب کیوں کر
گلاب لہجے جو خوشبؤں کی ضمانتوں کے امین ٹھہرے
یہ کیسی ان میں جھلک دِکھی ہے
گلاب لہجوں میں خار کیوں کر۔۔۔۔
یہ کون ہے جو گلاب چہروں پہ رنگ پت جھڑ کے بھر رہا ہے
یہ کون ہے جو گلاب لہجوں میں راکھ بن کے بکھر رہا ہے
گلاب لہجوں پہ نقش کتنی کہانیاں ہیں
خزاں رُتوں میں چمن میں اک آتشیں سماں ہے،
گلاب لہجوں پہ ڈھیر ساری اداسیاں ہیں
گلاب لہجے جو اک زمانے میں سانس لیتے تو گُل کھلاتے
گلاب لہجوں پہ کس کا سایہ پڑا ہے
کیسی ویرانیاں ہیں
گلاب لہجوں میں اِک شکن ہے
گلاب لہجوں میں کیوں تھکن ہے
گلاب لہجوں پہ شامِ ہجراں کا عکس کیوں کر
گلاب لہجوں میں ساعتوں کی نمی چھپی ہے
گلاب لہجوں میں رقص کرتے ہزاروں منظر
مگر جو دیکھو گلاب کی ہی…
گلاب لہجوں میں کچھ کمی ہے!
شاعرہ: سارہ خان

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں