site
stats
پاکستان

پارلیمنٹ میں خواتین ارکان کی کارکردگی قابل ستائش ہے ‘ اسپیکرقومی اسمبلی

اسلام آباد : اسپیکرقومی اسمبلی سردارایازصادق کا کہناہےکہ خواتین کونظام میں شامل نہ کرنے سےمعیاری جمہوریت،معاشی استحکام،صحت مندانہ معاشرے اور پائیدار امن کونقصان پہنچتاہے۔

انٹرنیشنل ویمن پارلیمنٹری کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب میں ایاز صادق نے کہا کہ مجھے یہ جان کر خوشی ہو ئی ہےکہ ایشیاء،افریقہ،یورپ اور آسٹریلیاکےبراعظموں کے16ممالک کےمندوبین خواتین اس کانفرانس میں شریک ہیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہےکہ پاکستان کی پارلیمنٹ کو یہ اعزاز حاصل ہے وہ دنیا بھر میں پہلی پارلیمنٹ ہے جس نے ایس ڈی جی پر پہلا پارلیمانی سیکرٹریٹ قائم کرتے ہوئے پارلیمانی حکمت عملی کے اپنے ویژن میں بین الاقوامی ترقی کا ایجنڈا شامل کیا ہے۔

ایازصادق نےکہاکہ میرے لیے ویمن پارلیمنٹری کا کس کی جانب سے منعقد ہ انٹر نیشنل ویمن پارلیمنٹری کا نفرنس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت انتہائی باعث مسرت ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ کی اسلام آباد میں موجودگی باوقار امن اور مل جل کر ترقی کرنے کی مشترکہ خواہش کی عکاسی کرتی ہے۔

مزید پڑھیں:خواتین کوبااختیاربنانےکےلیےویمن کاکس کا کرداراہم ہے‘مریم نواز

انہوں نےکہاکہ ایوان میں میر ے تجربے نے مجھے بتایا کہ اگر خواتین اراکین پارلیمان، قانون سازی کے عمل میں سرگرمی کا مظاہرہ کرتی ہیں تو ایوان عوام کی خوشحالی اور بلخصوص انسانی ترقی پر اپنی توجہ مرکوز رکھتا ہے۔

ایاز صادق نے کہا کہ اُن وزارتیں کی کارکردگی قابل ستائش ہے جن کی سربراہی خواتین اراکین پارلیمان کر رہی ہیں۔انہوں نےکہاکہ خواتین پارلیمانی سیکرٹریز ارکین پارلیمان کے سوالوں کا ایوان میں جواب دینے کے لیے زیادہ بہتر تیار ی کر کے آتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری پارلیمان میں تمام پارلیمانی جماعتوں کی خواتین پر مشتمل خواتین کے پارلیمانی کاکس کی بدستور موجودگی اور اس کا فروغ اس ضمن میں نہایت موثر ثابت ہواہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ اس مفید پلیٹ فارم کی بدولت پارلیمان نے حال ہی میں متفقہ طور پر بالترتیب امتناع زنابالجبر اور غیرت کے بام پر قتل کی روک تھام کے بل منظور کیے ہیں۔

واضح رہےکہ ایازصادق نے کہا کہ پائیدار ترقی کے مقاصد کے لیے بین الاقوامی عزم ہمیں یاددلاتا ہے کہ صحت مند اور تعلیم یافتہ قوم کے لیے جہالت سے مقابلہ کرنے کا راستہ خواتین کی رہنمائی اور خواتین کی مرکزیت کی حامل پالیسی سے نکلتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top