Sarfraz Bugtiسرفرازبگٹی کی وزیرداخلہ کے عہدے سےبرطرفی کانوٹیفکیشن جاری
The news is by your side.

Advertisement

سرفرازبگٹی کی وزیرداخلہ کے عہدے سے برطرفی کا نوٹیفکیشن جاری

کوئٹہ : بلوچستان کی سیاست میں ہلچل، سرفرازبگٹی کی وزیرداخلہ کے عہدے سےبرطرفی کانوٹیفکیشن جاری کردیا، وزیراعلیٰ نے گورنر سے سرفرازبگٹی کوبرطرف کرنےکی سفارش گورنرسےکی تھی۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں بھی نون لیگ مشکل میں پڑنے لگی، وزیراعلیٰ بلوچستان کےخلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد حکمراں جماعت میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے ، سرفرازبگٹی کی وزیرداخلہ کے عہدے سے برطرفی کانوٹیفکیشن جاری کردیا۔

برطرفی کی خبروں کے بعد سرفرازبگٹی نے ٹویٹ کیا کہ برطرفی کی خبر سچ نہیں وہ پہلے ہی اپنا استعفیٰ گورنر کو بھجواچکے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے گورنر سے سرفرازبگٹی کوبرطرف کرنےکی سفارش گورنرسے کی تھی۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون خصوصی پرنس احمدعلی بھی مستعفی ہوگئے، پرنس احمدعلی نے استعفیٰ گورنر بلوچستان کو بھجوادیا، پرنس احمدعلی نےدس روزپہلے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا تھا۔

گذشتہ روز  ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیرداخلہ بلوچستان سرفرازبگٹی نے عہدے سے مستعفی ہونےکا فیصلہ کرلیا ہے اوروہ جلد اپنا استعفیٰ وزیراعلیٰ بلوچستان کو بھیج دیں گے۔

اس حوالے سے وزیرداخلہ بلوچستان سرفرازبگٹی کا کہنا تھا کہ مستعفی ہونے سے متعلق خبروں کی نہ فی الحال تصدیق کرسکتا ہوں اور نہ تردید، میرےاستعفے سے متعلق میڈیا پر جو خبریں چل رہی ہیں وہ چلنے دیں، کل اہم پریس کانفرنس کروں گا۔


مزید پڑھیں : وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع


یاد رہے کہ اس سے پہلے بلوچستان اسمبلی کے اراکین نے وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی تھی، تحریک عدم اعتماد رکن اسمبلی عبدالقدوس بزنجو اور سید آغارضا کی جانب سے جمع کرائی گئی۔

تحریک عدم اعتمادپرق لیگ،جمعیت علمائےاسلام سمیت چودہ ارکان کےدستخط ہیں۔

نواب ثناء اللہ زہری نے اتحادی جماعتوں کا مشاورتی اجلاس طلب کرلیا جبکہ اسمبلی کااجلاس9جنوری کوطلب کرنےکی تجویزگورنرکوارسال کردی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پشتونخوا میپ اور نیشنل پارٹی نے ثنا اللہ زہری کی حمایت کا اعلان کیا ہے، نو جنوری کو متوقع اجلاس میں چند حکومتی ارکان تحریک کی حمایت کرسکتے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں