The news is by your side.

Advertisement

ن لیگ کا غلام نہیں، چالیس ارکان تحریک عدم اعتماد کے ساتھ ہیں: سرفراز بگٹی

لاہور: سابق وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ ہم نے ایک کرپٹ شخص کو عہدے سے ہٹانے کے لیے آئینی طریقہ اختیار کیا ہے، چالیس سے زائد ارکان تحریک عدم اعتماد کے حمایتی ہیں۔

یہ بات انھوں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام دی رپورٹرز میں بات کرتی ہوئے کہی۔

انھوں نے مزید کہا کہ بڑی جماعتوں نے بلوچستان کو ہمیشہ نظرانداز کیا، بلوچستان میں قومی اسمبلی کی صرف 14 نشستیں ہیں، سی پیک سے متعلق کمیٹی کا آج تک تعارفی اجلاس ہی نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ثنا اللہ زہری کو یقین ہے کہ ان کے خلاف عدم اعتماد تحریک کامیاب ہوگی، اس لیے ان کی جانب سے حمایتی ارکان کو خریدنے کی کوشش کی جارہی ہے، صوبائی وزیر میر اظہار خان کھوسو نے استعفیٰ دینے کا وعدہ کیا تھا، وہ کل سے لاپتا ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سرفرازبگٹی کی وزیرداخلہ کے عہدے سے برطرفی کا نوٹیفکیشن جاری

انھوں نے کہا کہ میں ن لیگ کاحصہ ضرور ہوں، غلام نہیں، پارٹی میں جمہوریت ہے، میں اختلاف سامنے رکھ سکتا ہوں، بہت سےدیگرارکان نے ووٹنگ کےدن ساتھ دینےکا یقین دلایا ہے، محمودخان اچکزئی سےاصولی اختلاف رکھتا ہوں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم وزیراعلیٰ کو کہتے رہے کہ آپ کاجھکاؤایک مخصوص جماعت کی طرف ہے، انھوں نے صرف ایک ضلع پر توجہ دی۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ میں نے کبھی وزیراعلیٰ بننے کے لئے کوششیں نہیں کیں، میری حکومت بنی تو شاید میں وزارت ہی نہیں لوں، جے یو آئی نے واضح کر دیا کہ موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے میری سیکیورٹی واپس لے لی ہے، حالاں کہ میں کالعدم تنظیموں کی ہٹ لسٹ پر ہوں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں