The news is by your side.

Advertisement

قطراور سعودیہ تنازع میں غیرجانبداری کی پالیسی پرکاربند ہیں، سرتاج عزیز

اسلام آباد : مشیرخارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان قطرسعودی تنازع میں غیرجانبداری کی پالیسی پرکاربند ہے اور دونوں ملک سے خوشگوارتعلقات کا خواہاں ہے۔

یہ بات انہوں نے سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے اجلاس کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے کہی جن کی صدارت نزہت صادق کررہی تھیں۔

مشیرخارجہ سرتاج عزیز نے مشرق وسطی باالخصوص سعودی عرب قطرتنازع پربریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یمن سعودی تنازع پرپارلیمانی قرارداد موجود ہیں جو خلیجی بحران میں پاکستان کی پالیسی کا بنیادی نکتہ ہے۔

ایک سوال جواب میں انہوں نے کہا کہ راحیل شریف اسلامی اتحاد فورس میں ذاتی حیثیت میں گئے ہیں انہیں سرکاری طور پر نہیں بھجوایا گیا ہے وہ اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں۔

اس موقع پر پی پی کے سینیٹر کریم خواجہ نے کہا کہ خلیجی بحران میں پاکستان کے کردارسے مطمئن نہیں اور راحیل شریف کورضاکارانہ طورپرواپس آجانا چاہیے کیوں کہ جہاں سعودی عرب اس طرح بھرتیاں کررہا ہے تو پھر ایران بھی ایسا ہی کرے گا اور معاملہ سنگین سے سنگین تر ہوتا جائے گا۔

پی پی کے سینیٹر کریم خواجہ کے موقف کی مخالفت کرتے ہوئے تحریک انصاف کے سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ راحیل شریف کو واپس بلانے سے پاک سعودی تعلقات خراب ہوں گے اور ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ 50 فیصد زرمبادلہ خلیجی ممالک سے آتا ہے اس لیے پاکستان اتنے بڑے نقصان کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سینیٹرزکا موقف سننے کے بعد اراکین امور خارجہ کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان کسی دوسرے ملک کے مسئلے میں ٹانگ نہیں اڑائے گا اور سعودیہ قطر میں تنازع میں غیر جانبدار رہے گا۔

اس موقع پر امور خارجہ کمیٹی کی چیئر پرسن سینیٹر نزہت صادق نے بتایا کہ وزیراعظم کی امیرقطرسے بھی ٹیلی فون پر تنازع کے حل پربات ہوئی ہے اور سعودی حکام سے بھی رابطہ ہے چنانچہ کمیٹی یہ سفارش کرتی ہے کہ پاکستان خلیجی بحران میں غیرجانبدار رہ کرمصالحتی کردارادا کرے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں