دفتر خارجہ میں افغان ناظم الامور کی طلبی، طور خم فائرنگ پر احتجاج -
The news is by your side.

Advertisement

دفتر خارجہ میں افغان ناظم الامور کی طلبی، طور خم فائرنگ پر احتجاج

اسلام آباد: دفتر خارجہ نے طور خم سرحد پر بلا اشتعال فائرنگ کے واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے افغان ناظم الامور کو طلب کرکے واقعہ پر احتجاج کیا ہے۔

دفتر خارجہ سے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ رات طور ختم سرحد پر بلااشتعال فائرنگ کے واقعے کو حکومت نے انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے اور افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق حکومت پاکستان نے افغان حکومت پر واضح کیا ہے کہ واقعے کو ہرگز پس پشت نہیں ڈالا جائے گا، افغان حکومت واقعہ کی فوری اور شفاف تحقیقات کرکے ملوث سرحدی حکام کے خلاف کارروائی کرے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ایسے واقعات  سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگا، ہم افغانستان سے بہتر تعلقات چاہتے ہیں جس کے لیے دونوں ممالک کو اقدامات کرنے ہوں گے۔

اس حوالے سے  مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے ، دکھ کی اس گھڑی میں متاثرین کے ساتھ ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ افغان فوج طور خم سرحد پر زیر تعمیر گیٹ پر فائرنگ کررہی ہے ، گیٹ پاکستانی حدود میں 37میٹر کے فاصلے پر زیر تعمیر ہے ،گیٹ تعمیر کرنے کا مقصد دہشت گردوں کی بلا روک ٹوک آمد کو بند کرنا ہے تاکہ پاکستان میں امن کا قیام یقینی بنایا جاسکے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق طور خم سرحد پر پاکستانی علاقے میں واقع گیٹ پر افغان سیکیورٹی فورسز نے نو بج کر بیس منٹ پر بلا اشتعال فائرنگ شروع کردی، جس کا پاکستانی فورسز نے بھرپور جواب دیا، افغان سیکورٹی فورسز کی بلااشتعال فائرنگ اور مارٹر گولوں کے استعمال سے دو سیکیورٹی اہلکاروں سمیت نو پاکستانی شہری زخمی ہوئے۔

فائرنگ کے نتیجے میں دونوں اطراف کشیدگی بڑھ گئی جس کے طورخم اورلنڈی کوتل میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں