The news is by your side.

Advertisement

سعودی آئل تنصیبات پر حملے کی سیٹلائٹ تصاویر جاری

واشنگٹن :امریکا نے پیر کے روز مصنوعی سیارے سے حاصل کی گئی فضائی تصاویر جاری کی ہیں۔ امریکا کا کہنا ہے کہ یہ سعودی عرب میں بقیق اور خریص ہجرہ میں ڈرون طیاروں کے ذریعے نشانہ بننے والی تیل کی تنصیبات سے نکلنے والے دھوئیں کی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق امریکی ذمے داران کا کہنا تھا کہ شواہد اس بات کا پتہ دے رہے ہیں کہ یہ حملے کروز میزائلوں کے ذریعے کیے گئے اور ان کے لیے عراق یا ایران کی سرزمین استعمال ہوئی۔

ذمے داران نے مزید بتایا کہ معلومات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ حملہ یمن سے ڈرون طیاروں کے ذریعے نہیں کیا گیا۔

جاری تصاویر سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حملے کے دوران ارامکو کے دو پلانٹس کے اندر 17 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔یمن کے آزادی پسند گروہ حوثی جماعت نے بقیق اور خریص ہجرہ میں ارامکو کی مذکورہ دونوں تنصیبات پر حملے کی ذمے داری قبول کی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل کمپنی آرامکو کے دو پلانٹس پر حوثی باغیوں کے ڈرون حملوں کے بعد دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

ریاض دنیا بھر میں تیل برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے جو یومیہ 70 لاکھ بیرل تیل دنیا بھر میں سپلائی کرتا ہے۔کولمبیا یونیورسٹی میں مرکز برائے عالمی توانائی پالیسی چلانے والے جیسن بروڈوف کا کہنا ہے کہ بعقیق دنیا میں تیل سپلائی کرنے والی بہت اہم آئل فلیڈ ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں