The news is by your side.

Advertisement

چھاپے اور ہراساں،ساتھی اسحاق کی اہلیہ ہائی کورٹ پہنچ گئیں

کراچی : متحدہ قومی موومنٹ لندن کے رہنما ساتھی اسحاق ایڈووکیٹ کی اہلیہ نے اپنے شوہر کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ہراساں کرنے پر سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں متحدہ قومی موومنٹ لندن کے رہنما ساتھی اسحاق ایڈووکیٹ کو ہراساں کرنے سے متعلق ساتھی اسحاق کی اہلیہ شبانہ اسحاق نے ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا، ساتھی اسحاق کی اہلیہ نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ساتھی اسحاق کو بلاوجہ ہراساں کر رہے ہیں۔

جانیے : پیپلز پارٹی کے رہنما ساتھی اسحاق ایڈوکیٹ کی ایم کیو ایم میں شمولیت

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ساتھی اسحاق ایک پُرامن اور قانون پسند شہری ہی نہیں بلکہ خود ایک قانون دان بھی ہیں لہذا ایک پُر امن شہری کی حیثیت سے وہ اپنی مرضی سے سیاسی سرگرمیوں سمیت اظہار رائے کی آزادی کا حق بھی رکھتے ہیں اس لیے معزز عدالت ساتھی اسحاق کو ہراساں کرنے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو روکے۔

پڑھیے : اگر کسی کے خلاف غداری کا مقدمہ ہے تو عدالت میں چلایا جائے،ساتھی اسحاق

ساتھی اسحاق کی اہلیہ شبانہ اسحاق کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر موقف سننے کے بعد عدالت نے وفاقی و صوبائی حکومت سمیت دیگر فریقین سے 8 نومبر تک جواب طلب کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں : متحدہ لندن کے رہنما حسن ظفر اور کنور خالد پریس کلب سے زیر حراست

دوسری جانب سندھ بار کونسل نے بھی ساتھی اسحاق ایڈووکیٹ کے گھر پر چھاپے اور اہل خانہ کو ہراساں کرنے کے حوالے سے اعلامیہ جاری کیا ہے۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ساتھی اسحاق ایڈووکیٹ کو ایک سیاسی جماعت سے وابستگی کی سزا دی جارہی ہے جب کہ کسی بھی سیاسی جماعت سے وابستگی قانون کے برخلاف نہیں اس لیے ساتھی اسحاق ایڈووکیٹ کو ہراساں کرنا قانون اور آئین کے برخلاف ہے۔

یاد رہے کہ ساتھی اسحاق نے چند ماہ قبل ہی ایم کیو ایم میں شمولیت حاصل کی تھی اور بعد ازاں 22 اگست کی متنازعہ تقریر کے بعد ایم کیو ایم میں دھڑے بندی کے بعد ساتھی اسحاق کو ایم کیو ایم لندن کی جانب سے ممبر رابطہ کمیٹی نامزد کردیا گیا۔

ایم کیو ایم لندن رابطہ کمیٹی 22 اکتوبر کو اپنی دوسری پریس کانفرنس کرنے پریس کلب پہنچی ہی تھی کہ رینجرز کے اہلکاروں نے ڈاکٹر حسن ظفر، کنور خالد یونس اور امجد اللہ کو حراست میں لے لیا تھا جب کہ دیگر ممبران اشرف نور اور ساتھی اسحاق کے گھروں پر چھاپے مارے گئے تھے جن کی عدم دستیابی پر اہل خانہ کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ اسحاق ایڈووکیٹ کراچی کی سیاست میں نمایاں مقام رکھتے ہیں وہ زمانہ طالب علمی سے ہی بائیں بازو کی سیاست میں حصہ لیتے رہیں اور ضیاء الحق کے بد ترین دورِ آمریت میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سرگرم عہدیدار رہے اور مارشل لا کی سختیاں جھیلیں، درد مند دل اور ہر ایک کے کام آنے کے باعث وہ زمانہ طالب علمی سے ہی ’ساتھی‘ کے نام سے اتنے معروف ہو گئے کہ اب یہ لقب ان کے نام کا مستقل حصہ بن گیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں