بھارتی پنجاب میں 1984ء میں پر جو قیامت گزری، تاریخ اس کی گواہ ہے۔ ظلم کی وہ آگ تو بجھ گئی مگر اس کی تپش آج بھی محسوس ہوتی ہے اور اسی راکھ سے خالصتان تحریک نے جنم لیا۔ اپنے اس خواب کی تعبیر پانے کے لیے بھارت کی سکھ براداری آج بھی کوشاں ہے۔ سکھ جدوجہد کا ایک مرکزی کردار جسونت سنگھ کھالڑا تھے، جو اس تحریک کی آڑ میں لاوارث بنا دیے اور قتل کیے جانے والے کے پیچھے گئے اور اپنی جان بھی اسی مقصد کی خاطر قربان کر دی۔ ان کی اسی جدوجہد کو فلم "ستلج” میں عکس بند کیا گیا ہے۔ اس فلم پر تفصیلی تبصرہ اور اس کا تجزیہ پیشِ خدمت ہے۔
کہانی/ اسکرپٹ
انڈین پنجاب کے شہر امرتسر کے باسی جسونت سنگھ کھالڑا جو حساس طبیعت کے مالک تھے، ان کا ایک دوست لاپتا ہوگیا۔ وہ اپنے دوست کی تلاش میں نکلے تو معلوم ہوا کہ وہی نہیں بلکہ ہزاروں ماؤں کے جگر گوشوں کو ناقابلِ شناخت لاشوں کی شکل میں دریائے ستلج میں بہا دیا گیا ہے۔ ریاست کی سرپرستی میں انڈین پنجاب میں پولیس گردی کا مقصد لوگوں کو خوف زدہ کرکے اپنے مقصد سے دور کرنا تھا۔ اور اس ظلم کو بے نقاب کرنے کے ارادے سے جسونت سنگھ کھالڑا ایک ایسے راستے پر چل پڑے، جس سے ان کی واپسی کبھی نہ ہوسکی۔ کھالڑا کا خاندان ان کی راہ تکتا رہا۔ وہ بھی دریائے ستلج کے مکین ہوگئے۔
انڈین پنجاب کی پولیس گردی کیسے ہوئی۔ خالصتان تحریک کے نام پر کس طرح ہزاروں نوجوانوں کو لاپتا کر دیا گیا۔ آخر کار جسونت سنگھ کھالڑا کی جدوجہد اور قربانی رنگ لائی۔ یہ معاملہ قومی سطح پر زیرِ بحث آیا۔ قانونی ادارے اور عدالتی نظام حرکت میں آیا۔ میڈیا میں چرچا ہوا اور آخر کار یہ کہانی دنیا کے سامنے آئی اور لوگوں نے جانا کہ کس طرح ایک نہتا شخص ظلم کے عفریت کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوگیا۔ 1995ء میں دریائے ستلج میں جسونت سنگھ کھالڑا کی لاش کو بہا دیا گیا تھا۔ ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ لاوارث لاشوں کی شناخت چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کو عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ ان کو کسی نامعلوم مقام پر مار کر ان کی لاشیں دریائے ستلج میں نہ بہائی جائیں۔ کھالڑا کی پکار کو سنا گیا، لیکن جب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ وہ اپنا سب کچھ یہاں تک کہ اپنی جان بھی گنوا بیٹھے۔
فلم سازی و ہدایت کاری
اس فلم کی سب سے اہم بات، انڈین پنجاب کی تاریخ کے ایک اہم واقعہ کو پوری طرح ریکارڈ پر لانا تھا۔ فلم کے لیے انڈین پنجاب کے معروف گلوکار اور اداکار دلجیت دوسانجھ نے کوئی معاوضہ نہیں لیا۔ اس فلم میں کام کر کے انہوں نے خود کو اور اپنے میوزیکل کیریئر کو خطرے میں ڈالا، مگر حقیقی معنوں میں انہوں نے جسونت سنگھ کھالڑا کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اپنی برادری اور اپنے مقصد کے لیے خود کو وقف کر دینا ہی اصل کام ہے اور یہ انہوں نے کیا۔ فلم کے پروڈیوسرز اور ہدایت کار ہنی تریہان بھی اس فلم کے لیے لائقِ ستائش ہیں۔ انہوں نے بطور ہدایت کار فلم کے موضوع کے ساتھ پورا انصاف کیا ہے۔
اداکاری، موسیقی اور دیگر پہلو
اس فلم کی تمام کاسٹ نے بلاشبہ اپنے کرداروں میں ڈوب کر اپنے فن کا مظاہرہ کیا ہے۔ بالخصوص کھالڑا کے کردار میں دلجیت دوسانجھ نے خود کو امر کر دیا۔ شوخ دھنیں بنانے والے اس موسیقار نے اپنے اندر کے زخموں سے چور فن کار کو دنیا کے سامنے کھڑا کر دیا ہے۔ اس کے درد سے پوری فلم ایک فریاد اور اداسی کے راگ میں تبدیل ہوگئی ہے۔ آتما کی صورت میں پلٹ کر آنے والے منظر میں دلجیت دوسانجھ بطور اداکار اپنے فن کی بلندی پر نظر آتے ہیں اور ان پر آخری تشدد کے مناظر بھی دل چیر کر رکھ دیتے ہیں۔ اسی طرح کھالڑا کی بیوی کا کردار نبھانے والی اداکارہ گیتیکا ودیا اوہلیان نے بھی غضب کی اداکاری کی۔ فلم کے ایک منظر میں ایک عینی شاہد عدالت میں بتاتا ہے کہ کھالڑا پر کیا قیامتیں توڑی گئیں۔ اس موقع پر اداکارہ نے ایک بھی لفظ ادا کیے بغیر، اپنے چہرے کے تاثرات اور بہتے ہوئے آنسوؤں سے اپنی جو کیفیت بیان کی ہے، وہ ایک مختصر سا منظر ہے، مگر یہ منظر بولی وڈ کی آدھی فلم انڈسٹری کی اداکاراؤں کی اداکاری کو گویا کھا گیا ہے۔ پسِ پردہ دل کو چھو لینے والے الاپ نے اس منظر میں ایک تاثیر پیدا کردی ہے۔ دلجیت دوسانجھ کو اس فلم کے اثر سے نکلنے میں کئی دن لگے، مگر سوشل میڈیا پر دکھائی دینے والی ان کی ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اب بھی اس سے مکمل طور پر باہر نہیں آسکے ہیں۔
تنازعات کا گھیرا
یہ فلم کئی برسوں سے ریلیز کے انتظار میں تھی۔ سنسر بورڈ اس کی راہ میں رکاوٹ تھا۔ آخر کار فلم کی ٹیم نے فیصلہ کیا کہ اسے سنیما تھیٹرز میں ریلیز کرنے کی بجائے براہ راست اوٹی ٹی پلیٹ فارم پر ریلیز کر دیا جائے۔ آخر یہ فلم انڈین اسٹریمنگ پورٹل "زی فائیو” پر ریلیز کر دی گئی اور ریلیز کو ایک سے دو دن ہی گزرے تھے کہ اسے وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ اس کے باوجود فلم دنیا بھر میں پھیل گئی اور اب تو یہ سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر بھی اچھے پرنٹ کے ساتھ موجود ہے۔ اس سلسلے میں دلجیت دوسانجھ نے سوشل میڈیا پر اپنی گفتگو کی ویڈیوز جاری کی ہیں اور ہندوستان میں ان کا میڈیا ٹرائل بھی چل رہا ہے۔ متعصب ہندوستانی میڈیا ان کو پہلے ہی خالصتانی گلوکار پکارتا ہے۔ فلم سے پہلے وہ خالصتانی تھے یا نہیں، مگر اب انہوں نے اس فلم سے خود کو جس طرح وابستہ کر لیا ہے، وہ اُن سب کے منہ پر ایک تماچہ ہے جو ان کو عزت اور مقام دینے کو تیار نہ تھے۔
حرفِ آخر
دنیا میں کہیں بھی ظلم کیا جائے اور جمہوری راستہ یا قانونی آپشن کو چھوڑ کر کسی فرد یا ایک گروہ کے ساتھ غیر انسانی سلوک اپنایا جائے اور انسانوں کو کسی بھی الزام میں لاوارث لاشوں میں تبدیل کر دیا جائے، یہ قابل قبول نہیں۔ چاہے کوئی بھی ملک ہو یا کتنی ہی مضبوط ریاست ہو، تاریخ اس کا ظلم یاد رکھتی ہے اور ایک دن ضرور اسے حساب دینا پڑتا ہے۔
زندگی میں کتنے ہی دکھ اور مشکلات ہوں، لیکن امید ایک ایسی چیز ہے، جس کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ یہ فلم ہمیں ایک جدوجہد اور قربانی کی داستان سناتے ہوئے یہی سبق دیتی ہے۔ آپ کا دل اگر انسانیت کے لیے دھڑکتا ہے تو یہ فلم آپ کے لیے ہی تخلیق کی گئی ہے۔ ضرور دیکھیے اور ایک مقصد کی خاطر دی گئی قربانی پر کھالڑا کو خراجِ عقیدت پیش کیجیے۔ اور اُن سب کو جنہوں نے دنیا میں ظلم کے خلاف آواز اٹھائی اور راہِ حق میں اپنا سب کچھ قربان کردیا۔
اس فلم میں جسونت سنگھ کھالڑا پر تشدد کے مناظر، پس منظر میں کرب کو بیان کرتا الاپ، عدالت میں روتی ہوئی بیوہ کا چہرہ، دراصل درد کے وہ فن پارے ہیں، جن کو اسکرین کے لیے فلم ساز نے تخلیق کیا ہے۔ یہ فلم وہ کیفیت ہے، جس میں جسم بکھر چکا ہے اور روح زخمی ہے۔ اسی کا نام ستلج ہے، جو فلم نہیں، درد کا بیان ہے، جس کو فیض احمد فیض نے اپنی پنجابی نظم میں کچھ اس طرح بیان کیا ہے
ربا سچیا توں تے آکھیا سی
جا اُوئے جگ دا شاہ ہیں توں
کدی ساروی لئی او رب سائیاں
تیرے شاہ نال جگ کی کیتیاں نیں
ایویں ھڈاں وچ کلپے جان میری
جیویں پھاہی وچ کونج کر لاندی اے
چنگا شاہ بنایا ای رب سائیاں
پولے کھاندیاں وار نہ آندی اے





