اداکار دلجیت دوسانجھ کی فلم ’ستلج‘ پر پابندی کے باوجود دہلی سکھ گوردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کی جانب سے پبلک اسکریننگ کی جائے گی۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق ہنری تریہن کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’پنجاب 95‘ جس میں دلجیت دوسانجھ اور ارجن رامپال نے مرکزی کردار ادا کیے ہیں، سنسر بورڈ کے ساتھ سالوں تنازع کے بعد بالآخر ایک نئے نام ’ستلج‘ کے ساتھ بھارت میں او ٹی ٹی پلیٹ فارم زی فائیو پر ریلیز کیا گیا۔
تاہم یہ فلم بھارت میں اس او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر دو دن سے زیادہ نہ چل سکی اور ملک بھر میں اس کی اسٹریمنگ روک دی گئی۔
’ستلج‘ پر پابندی کے باوجود دہلی سکھ گرودوارہ مینجمنٹ کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس فلم کی عوامی نمائش کر اہتمام کریں گے۔
ڈی ایس جی ایم سی کے صدر ہرمیت سنگھ کالکا نے کہا کہ چونکہ یہ فلم جسونت سنگھ کھالڑا کی سوانح عمری پر مبنی ہے اس لیے یہ دکھاتی ہے کہ کس طرح ایک سماجی کارکن نے لوگوں کی آنکھیں سچائی کی طرف کھولیں۔ انہوں نے 25000 ایسی لاشوں کے ثبوت تلاش کیے جنہیں ‘لاوارث’ قرار دے کر جلا دیا گیا تھا اور انہوں نے یہ مسئلہ ناصرف ملک کے اندر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اٹھایا اور پنجاب کے سنگین حالات کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس کہانی کو دبانا اور اس تاریک دور کے واقعات کو عوام تک پہنچنے سے سراسر غلط ہے اور اس نے سکھ برادری میں شدید غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔
یہ پڑھیں: ہربھجن سنگھ نے بھی ’ستلج‘ فلم کی تعریف کردی
ہرمیت سنگھ نے مزید کہا کہ ہم نے گرودوارہ کمیٹی کے تمام ارکان سے کہا ہے کہ وہ اس فلم کو ڈاؤن لوڈ کریں اور اپنے اپنے علاقوں میں اس کی نمائش کریں تاکہ یہ عوام تک پہنچ سکے، ہم جلد ہی اپنے اسکولوں اور کالجوں کے چیئرمینوں کے ساتھ ایک میٹنگ بلائیں گے، ہر کالج میں جسونت سنگھ کھالڑا پر سیمینارز منعقد کیے جائیں گے تاکہ ان کی زندگی اور ورثے پر بات چیت کی جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ یہ سمجھیں کہ ایک اکیلا سماجی کارکن معاشرے پر کتنا گہرا اثر ڈال سکتا ہے، اگر ایک فرد اتنا کچھ حاصل کر سکتا ہے تو ایسی کوئی وجہ نہیں کہ ہم سب مل کر ایسا نہ کر سکیں۔


