سعودی عرب کا پاکستانی تاجروں کو 2 سال کا ملٹی پل ویزا دینے کا اعلان -
The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب کا پاکستانی تاجروں کو 2 سال کا ملٹی پل ویزا دینے کا اعلان

اسلام آباد: سعودی عرب نے ایف پی سی سی آئی کی سفارش پر پاکستانی تاجروں کیلئے ملٹی پل ویزا جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں پاکستان میں سعودی سفیر عبداللہ مرزوق الزہرانی کی ایف پی سی سی آئی کے صدر عبدالرؤف عالم سے ملاقات ہوئی، ملاقات میں پاکستانی تاجروں کو 2 سال کا ملٹی پل ویزا دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

ملاقات میں ایف پی سی سی آئی کے صدر نے سعودی سفیر کو پاکستانی تاجر برادری کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا، ملاقات میں جڑواں شہروں کی تاجر برادریوں کے رہنما بھی موجود تھے۔

اس موقع پر سعودی سفیر نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان سے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت سمیت ہر شعبہ میں تعلقات کو فروغ ملے، پاکستانی تاجروں کے ویزا اور دیگر مسائل حل کرنے کیلئے ہر ممکن تعاون کریں گے۔

عبداللہ مرزوق الزہرانی نے کہا کہ سعودی معیشت کا انحصار تیل پر ہے ، ہم دیگر شعبوں میں بھاری سرمایہ کاری کر اسکو کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں، یہ پاکستانی سرمایہ کاروں کے پاس بھی سنہری موقع ہے۔

انکا کہنا تھا کہ پاکستانی سرمایہ کار سعودی عرب میں زراعت، مشروبات، خوراک، فوڈ پراسسنگ، آئل، گیس، شمسی توانائی، پانی سے متعلقہ شعبوں، ، تعلیم، تربیت، انسانی وسائل کی ترقی ۔ انفراسٹرکچر، ریلوے، میٹرو، ٹرانسپورٹ، ماحولیات، آئی سی ٹی، کنزیومر و لگژزی اشیاء ،کان کنی، سیکورٹی سروسز اور ہیلتھ کئیر کے شعبوں میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔


مزید پڑھیں : سعودی عرب: 4 برس کے دوران 7662 پاکستانی گرفتار،فہرست تیار


سعودی سفیر نے کہا کہ کاروبار شروع کرنے والے پاکستانی سرمایہ کاروں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا جائے گا اور تمام سہولتیں بھی فراہم کی جائیں گی۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر کا کہنا تھا کہ 2003 سے 2013 کے دوران سعودی عرب میں معاشی خوشھالی دیکھنے میں آئی، فی گھرانہ آمدنی میں 75فیصد تک اضافہ ہوا، 17 لاکھ ملازمتیں پید اہوئیں، جی ڈی پی دو گنا ہوگیا جبکہ زر مبادلہ کے ذخائر بھی جی ڈی پی کے 100 فیصد تک پہنچ گئے تھے۔

عبدالرؤف عالم نے کہا کہ سعودی ریال دنیا کی سب سے زیادہ مستحکم کرنسیوں میں سے ایک ہے اور گزشتہ تین دہائیوں کے دوران اس کی قدر میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں آئی ، اس وجہ سے پاکستانی تاجروں کسی بھی خوف کے بغیر وہاں سرمایہ کاری کرسکتے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں