سعودی عرب کے معمر ترین شخص، رازِ حیات کیا تھا ؟ Saudi Arab
The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب کے معمر ترین شخص کا انتقال، طویل عمری کا راز کیا تھا ؟

ریاض : سعودی عرب میں سب سے زیادہ عمر پانے والے شیخ علی العلکمی کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنی غذا کا ہمیشہ خیال رکھتے اور سفر کے لیے گاڑی کے بجائے پیدل چلنے کو ترجیح دیتے تھے یہاں تک کہ عمرے اور حج کے لیے بھی پیدل ہی سفر طے کیا کرتے۔

بین الااقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق حال ہی میں انتقال کرنے ولے سعودی عرب کے 147 سالہ معمر ترین شخص نے اپنی طویل عمر کا راز بتاتے ہوئے اہل خانہ کو طویل عمر پانے کے راز سے پردہ اُٹھاتے ہوئے اہم انکشافات کیے تھے

شیخ علی العلکمی کے اہل خانہ نے انکشاف کیا کہ وہ ہمیشہ قرآن پاک اپنے ہمراہ رکھا کرتے تھے، جب موقع ملتا تلاوت کرنا شروع ہوجاتے اور آخری دم تک شعائر اسلام کے عاشق رہے یہاں تک کہ جب بھی حج و عمرے کے لیے مکہ و مدینے کا قصد کیا ہمیشہ پیدل ہی سفر کیا

اُن کے خاندان کے ایک فرد یحیی العلکمی نے بتایا کہ شیخ علی اپنی غذا کا خاص خیال رکھتے تھے جس کے لیے وہ صرف اپنے فارمز سے حاصل ہونے والا اناج، گندم، مکئی، جَو اور شہد کھایا کرتے تھے اور محض اپنے پالے ہوئے جانوروں کا ہی تازہ گوشت نوش کیا کرتے تھے جب کہ تقریبات کا یا باہر کا تیار کردہ کھانا کھانے سے مکمل پرہیز کرتے

طویل عمر پانے والے شیخ علی العلکمی کی طرز زندگی کا سب سے اہم جز پیدل سفر کرنا تھا چنانچہ انہیں گاڑی میں سوار ہونا سخت ناپسند تھا اور سفر کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو وہ پیدل ہی طے کرتے یہاں تک کہ مکہ مکرمہ بھی مختصر زاد سفر کے ساتھ پیدل جایا کرتے تھے اور مقامات مقدسہ کی زیارت کیا کرتے۔

ایک ہفتے قبل فالج کے سبب جاں بحق ہونے 147 سالہ شیخ علی العلمکی کی ایک بیٹی اور بیٹا تھا تاہم بیٹے کا انتقال ہوچکا ہے، انہوں نے عام سعودی کلچر سے ہٹ کر کثرت شادی اور کثرت اولاد سے بھی اجتناب برتا اور تمام عمر اپنے کھیتوں اور فارم ہاؤس میں خود کام کیا اور وہیں کی فصل و جانوروں کو بہ طور خوراک استعمال کیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں