سعودی عرب ایمنسٹی اسکیم: 75 ہزار پاکستانیوں کا سفارت خانے سے رابطہ
The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب ایمنسٹی اسکیم: 75 ہزار پاکستانیوں کا سفارت خانے سے رابطہ

ریاض: سعودی عرب میں غیر قانونی طور پر مقیم 75 ہزار پاکستانیوں نے وطن واپسی کے لیے سفارت خانے سے رابطہ کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق سعودی حکام کی جانب سے غیر قانونی مقیم افراد کی باعزت طریقے سے واپسی کے لیے ایمنسٹی اسکیم کا اجرا کیا گیا جس کی مدت میں اضافہ بھی کیا گیا ہے۔

فوٹو بشکریہ سعودی گزٹ

ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے پاسپورٹ آفس سے رابطہ کیا ہے ایک رپورٹ کے مطابق چند روز قبل تک تقریبا 5 لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد نے اس اسکیم سے فائدہ اٹھایا جن میں انڈونیشیا، یمن، ایتھوپیا، سوڈان، بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش کے شہری نمایاں ہیں۔


اسی سے متعلق: سعودی عرب ایمنسٹی اسکیم: 5 لاکھ 72 ہزار غیر قانونی مقیم مستفید


سعودی گزٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے مختلف شہروں میں پاسپورٹ دفاتر کے ڈی پورٹ سیکشنز کے باہر لوگوں کی بڑی تعداد نظر آرہی ہے جو وطن واپس جانا چاہتے ہیں۔

پاکستان

خلیج ٹائمز نے پاکستانی سفارت خانے کے ذرائع سے دعویٰ کیا ہے کہ اس اسکیم کے تحت واپسی کے لیے جدہ اور ریاض سے 75 ہزار سے زائد پاکستانی باشندوں نے سفری دستاویزات کے اجرا کے لیے سفارت خانے سے رابطہ کیا ہے۔

یہ پاکستانی سعودی عرب میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں جو اس اسیکم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اب وطن واپس جانا چاہتے ہیں۔

اسکیم سے قبل انہوں نے وطن واپسی کے لیے سفارت خانے یا پاسپورٹ آفس جدہ یا ریاض سے اس لیے رابطہ نہیں کیا کہ انہوں نے سزا اور جرمانے کا ڈر تھا۔

نہ سزا، نہ جرمانہ، اور نہ فنگر پرنٹس لیے جائیں گے

اس اسکیم کے تحت واپسی کی صورت میں انہیں نہ تو کوئی سزا دی جائے گی، نہ جرمانہ عائد ہوگا اور نہ آئندہ سعودی عرب آنے کے لیے انہیں بلیک لسٹ کیا جائے گا کیوں کہ یہ واپسی باعزت طریقے سے ہوگی اور نہ ہی جاتے وقت ان کے فنگر پرنٹس لیے جائیں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ بلیک لسٹ کیے گئے افراد کی فہرست میں فنگر پرنٹس ڈال دیے جاتے ہیں بعد میں انہیں ویزا نہیں دیا جاتا تاہم اسکیم میں ایسا نہیں ہے

بھارت

اسی طرح 31 ہزار بھارتی باشندوں نے واپسی کے لیے اسکیم سے فائدہ اٹھانا چاہا ہے، کئی ہزار وطن چھوڑ چکے ہیں اور کئی ہزار باقی ہیں تاہم سعودی حکام نے یہ معلومات ابھی نہیں دیں کہ اب تک کتنے بھارتی وطن چھوڑ چکے ہیں اور کتنے باقی ہیں۔

بنگلہ دیش

بنگلہ دیشی سفارت خانے کے ذرائع کے مطابق 50 ہزار سے زائد بنگلہ دیشی باشندے اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے خواہش مند ہیں جن میں سے 45 ہزار افراد سعودی عرب چھوڑنے کے حوالے سے اپنے تمام تر کاغذات مکمل کرچکے ہیں جب کہ 20 ہزار بنگلہ دیشی پہلے ہی وطن چھوڑ چکے ہیں۔

انڈونیشیا

سعودی گزٹ نے جدہ میں قائم انڈونیشیا کے قونصل جنرل دفتر کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ 7 ہزار 421 انڈونیشی باشندوں نے اس اسکیم کے تحت سعودی عرب چھوڑ دیا ہے تاہم اس بار کی یہ تعداد سال 2013ء میں پیش کی گئی ایمنسٹی اسکیم سے تین گنا کم ہے۔

انڈونیشن قونصلیٹ کے افسر عمر بدر شاہ نے سعودی گزٹ کو بتایا کہ یہ تعداد اس لیے کم ہے کہ بہت سے غیر ملکی باشندے حج ختم ہونے کے بعد حاجیوں کی واپسی پر پیش کی جانے والی ایک اور ایمنسٹی اسکیم کی توقع کررہے ہیں۔

ریاض میں قائم انڈونیشی سفارت خانے نے بتایا کہ جدہ اور ریاض کے دفاتر سے اب تک 13 ہزار انڈونیشی باشندوں کو وطن واپسی کے لیے کاغذات جاری کیے جاچکے ہیں لیکن سعودی عرب ابھی تک 7 ہزار باشندوں نے چھوڑا ہے۔

یمن

یمن کے سفارتی ذرائع کے مطابق یومیہ 300 یمنی باشندوں کی واپسی کے سفری کاغذات تیار کیے جارہے ہیں اور بہت سارے یمنی شمسی ڈی پورٹیشن سینٹر کی جانب سے کاغذات مکمل کیے جانے کے منتظر ہیں۔

ایتھوپیا

تقریباً 60 ہزار سے زائد ایتھوپین شہریوں نے ایگزٹ ویزا کے لیے جدہ میں قائم اپنے سفارت خانے سے رجوع کیا ہے۔

سوڈان

سوڈانی سفارت خانے کے حکام بھی آج کل تندہی کے ساتھ اپنے شہریوں کی واپسی کے کاغذات کے اجرا میں مصروف ہیں، امکان ہے کہ آئندہ چند روز میں 47 ہزار سوڈانی باشندے سعودی عرب چھوڑ دیں گے۔

سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے ملک بھر میں موجود غیر قانونی تارکین وطن کےلیے 90 روزہ ایمنسٹی اسکیم 29 مارچ سے جاری ہے جس کے تحت غیر ملکی مزدور اور رہائشی افراد بغیر کسی جرمانے کے سعودی عرب چھوڑ سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ ایمنسٹی اسکیم ختم ہونے کی مدت بروز پیر 24 جون رات بجے تک ہے تاہم اس اسکیم کے ختم ہونے کے بعد مزید کچھ اضافی وقت بھی دیا جائے گا۔

اسکیم ختم ہونے کے بعد بڑا کریک ڈاؤن ہوگا

اسکیم مکمل ختم ہونے کے بعد سعودی عرب میں موجود ٖغیر قانونی مقیم افراد کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن کیا جائے گا جس میں پکڑے گئے افراد کو ملک بدر کرنے سے قبل جرمانے اور سزاؤں کا بھی سامنا کرنا ہوگا جب کہ ان کے فنگر پرنٹس لے کر بلیک لسٹ افراد کی فہرست میں شامل کردیے جائیں گے جس کے بعد انہیں آئندہ سعودی عرب آنے کا ویزا نہیں ملے گا۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب: تنخواہ میں تاخیر پر ہر ملازم کے عوض 3 ہزار ریال جرمانے کا فیصلہ

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں