The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب: ‘قانون محنت’ کے حوالے سے غیرملکیوں کیلئے معلومات کا ذخیرہ

سعودی عرب میں قانون محنت کی طویل فہرست ہے لیکن اس خبر میں ہم بنیادی اور چیدہ چیدہ معلومات سے قارئین کو آگاہ کریں گے جس سے مملکت میں مقیم ملازمین مستفید ہوسکتے ہیں۔

گزشتہ اشاعت میں ہم نے سعودی عرب کے ٹریفک قوانین سے متعلق انفارمیشن کا ذخیرہ آپ تک پہنچایا تھا۔ لیکن اس مرتبہ مملکت میں ہنگامی تعطیلات، دو جگہ کام کرنا اور کارکن کی رضامندی کے بغیر اجرت میں کٹوتی سمیت دیگر اہم امور سے متعلق قوانین پر روشنی ڈالی گئی ہے جن کے بارے میں کارکنان کا جاننا بہت ضروری ہے۔

قانون محنت کے بنیادی اصول اور قوائدوضوابط درجہ ذیل ہیں۔

ملازمین کی اجرت میں کٹوتی

سعودی قانون محنت کے تحت آجر بغیر رضامندی کے ملازمین کی تنخواہ سے کٹوتی نہیں کرسکتا لیکن چند ایسے اصول ہیں جن کی وجہ سے آجر کو یہ کرنے کا جواز حاصل ہوگا۔

اگر کسی ملازم نے آجر سے قرض لے رکھا ہے تو وہ بغیر رضامندی سے کٹوتی کرسکتا ہے اور دوسری صورت سوشل سیکیوٹی انشورنس کی مد میں حاصل کیا گیا پریمیم ہے۔ اسی طرح اگر ملازمین نے پروویڈنٹ فنڈ سے قرض لے کر مکان تعمیر یا کسی دوسرے مقاصد کے لیے استعمال کیا تب بھی تنخواہ سے پیسے کٹیں گے۔

ملازمت سے متعلق قانون کی خلاف ورزی پر عائد ہونے والے جرمانے بھی بغیر بتائے تنخواہ سے کاٹے جائیں گے۔ اگر کسی ورکر کو کسی کیس کا سامنا ہوا اور عدالت نے 180 دن جیل کی سزا سنائی تو تنخواہ کی 50 فیصد کٹوتی ہوگی۔ تاہم اگر کیس سے برآت ہوجاتی ہے تو کاٹی گئی تنخواہ ادا کردی جائے گی۔

لیکن اگر ملزم پر جرم ثابت ہوگیا تو ملازمت کے دوران کٹوتی رقم واپس نہیں کی جائے گی۔

ملازمت کے اوقات کار

قانون کے تحت ملازمت کا ورکنگ آورز 8 گھنٹے یا 40 گھنٹے ہفتہ وار سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ ماہ رمضان کے دوران ملازمین کو ریلیف کے طور پر 6 گھنٹے کام کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

کھانے اور آرام کا وقفہ

سعودی محنت قانون کے مطابق کسی بھی ملازم سے مسلسل پانچ گھنٹے کام نہیں لیا جاسکتا بلکہ اسے نماز، کھانے اور آرام کے لیے آدھے گھنٹے کی چھٹی دی جائے گی، اس دورانے میں وہ آزاد رہ سکتا ہے۔

ہفتہ وار چھٹی

سعودی عرب میں عمومی طور پر جمعے کو ہفتہ وار چھٹی تصور کیا جاتا ہے کہ لیکن اگر کوئی شعبہ اسے تبدیل کرنا چاہے تو اسے اختیار حاصل ہوگا، لیکن ہفتے میں ایک دن تعطیل لازمی ہے۔

سالانہ تعطیلات

ملازم اگر پانچ سال سے زیادہ عرصے سے کام کررہا ہے تو اسے سالانہ ایک ماہ کی چھٹی ملے گی جبکہ 5 برس سے کم ہونے کی صورت میں21 دن کی چھٹیاں حاصل کرنے کا حق رکھتا ہے جبکہ تنخواہ سے کٹوتی بھی نہیں ہوگی۔

سالانہ چھٹیاں حاصل کرنے کا طریقہ

قانون کے تحت ملازمین کو سالہ چھٹیوں سے ایک ماہ قبل اطلاع کرنا ضروری ہوگا تاکہ ادارہ متبادل کے طور پر کام کے معاملات طے کرے، ان چھٹیوں کا مقصد ورکرز کی ذہنی آبیاری ہوتا ہے۔

ایمرجنسی چھٹی اور نوکری چھوڑنا

اسی طرح ملازم نے اگر سالانہ چھٹی یا ہفتہ وار چھٹی نہیں لی اور وہ باقی ہیں لیکن مذکورہ ورکر کام چھوڑنا چاہتا ہے تو ایسی صورت میں اسے ان دنوں کی اجرت ملے گی۔ اولاد کی ولادت پر تین دن جبکہ شادی کے موقع پر ملازمین کو 5 دن کی چھٹیوں کا حق حاصل ہے۔ اسی طرح بیوی یا قریبی عزیز کے انتقال پر 5 دن کی چھٹی دی جائے گی۔

چھٹیاں لیکن بغیر تنخواہ کے

ملازمین کسی ضروری امر کی انجام دہی کے لیے آجر کی رضامندی سے ایک ماہ کی چھٹی بھی لے سکتا ہے لیکن ایسی صورت میں اسے تنخواہ نہیں ملے گی جبکہ نوکری سے بھی نہیں نکالا جائے گا۔ بیماری کی صورت میں چھٹیاں ایک ماہ سے بھی بڑھ سکتی ہیں لیکن تنخواہیں ملیں گی اور اسے سالانہ چھٹیوں پر منتقل کردیا جائے گا۔

دو اداروں میں ایک ساتھ کام کرنا

سعودی قانون محنت کے تحت ملازمین پر ایک ساتھ دو اداروں میں کام کرنے پر پابندی عائد ہے۔ سالانہ چھٹیوں کی آڑ میں بھی کسی دوسری جگہ کام نہیں کیا جاسکتا۔

آجر کی جانب سے واجبات کی ادائیگی

قانون محنت کے مطابق کارکنان کی مدت ملازمت پانچ برس سے ہوچکی ہو اور وہ کام چھوڑنا چاہیں تو واجبات کی مد میں انہیں ہر ماہ کے آدھے تنخواہ کے حساب سے پیسے دیے جائیں گے جو ڈھائی ماہ کی تنخواہ بنتی ہے۔

اسی طرح اگر مدت ملازمت پانچ برس سے زیادہ ہو تو کام چھوڑنے کی صورت میں اسے واجبات کی مد میں ہر ماہ کے حساب سے پورے پورے تنخوار ملیں گے(یعنی ایک سال پر ایک ماہ کی اجرت)۔

Comments

یہ بھی پڑھیں