The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب: غیرملکی ملازم بڑی مشکل میں پھنس گیا

ریاض: سعودی عرب میں مقیم غیرملکی ورکر نے ملازمت سے متعلق اپنی پریشانی بیان کردی۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سعودی محکمہ پاسپورٹ وامیگریشن(جوازات) سے ایک غیرملکی ملازم نے استفسار کیا کہ ملازمت کا نیا معاہدہ قبول نہیں کیا جس پر کفیل نے خروج نہائی لگا دیا۔ جانا نہیں چاہتا کیا کروں؟۔

جوازات نے ردعمل دیا کہ آجر واجیر کے مابین کسی بھی اختلافی معاملے کی صورت میں لیبر آفس سے رجوع کیا جاسکتا ہے جہاں متعلقہ ادارے مسائل کا جائزہ لے کر حل پیش کرتے ہیں۔

مذکورہ بالا سمیت کسی بھی پیچیدہ مسائل میں مبتلا غیرملکی شہری اپنے مسائل کا حل لیبر آفس سے طلب کرسکتے ہیں۔ خیال رہے کہ سعودی حکومت نے مارچ 2021 سے ملازمت کا نیا قانون متعارف کرایا تھا۔

سعودی عرب سے بڑی خوش خبری!

نئے معاہدے کے تحت بہت سے امور میں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، ملازمت کا معاہدہ ڈیجیٹل ہوتا ہے جسے منظور کرنے کے بعد وزارت افرادی قوت کی جانب سے معاہدے کی تصدیق کی جاتی ہے، ورکر کو یہ اختیار ہے کہ وہ ملازمت کا معاہدہ قبول کرنے سے انکار بھی کرسکتا ہے تاہم اسے مؤثر دلائل پیش کرنا ہوں گے۔

یاد رہے کہ لیبر آفس جو کہ وزارت افرادی قوت کا ذیلی ادارہ ہے، میں آجر و اجیر کے مابین اختلافات کو دور کیا جاتا ہے، محنت کے قانون کے مطابق لیبر کورٹ یا لیبر آفس میں کیس دائر کرنے کے بعد قانونی نکات کا جائزہ لینے کے بعد فریقین کو طلب کیاجاتا ہے تاکہ باہمی اتفاق سے معاملے کوحل کیا جا سکے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں