The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب: عدالتوں میں خواتین کے لیے 5 نئی ملازمتوں کا اعلان

ریاض : سعودی عرب کے حکام نے خواتین کے لیے نئی ملازمتوں کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد خواتین عدالتوں کے انتظامی معاملات میں بھی خدمات انجام دیں سکے گی۔

تفصیلات کے مطابق شاہ سلمان بن عبد العزیز کے حکم پر ملکی عدالتوں میں پانچ نئی ملازمتوں کا اعلان کیا ہے، جس پر صرف سعودی خواتین فرائض انجام دیں گی۔

سعودی عرب کی وزارت انصاف کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی خواتین عدالتی امور میں سماجی، شرعی اور قانونی محقیقن کے علاوہ انتظامی اور ڈیولپنگ کے معاملات میں بھی خدمات انجام دیں گی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب میں وکلالت کے شعبے میں خواتین کو جاری کیے گئے لائسنس شرح اضافے کے بعد 240 فیصد ہوگئی ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں صرف 280 خواتین وکیل کی حثیثت سے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی وزارت انصاف کی جانب سے سعودی خواتین میں شعور اجاگر کرنے اور شرعی و قانونی حقوق کے حوالے سے آگاہی فراہم کی جارہی ہے۔

سعودی خبر رساں اداروں کا کہنا تھا کہ خواتین میں شعور اجاگر کرنے کے حوالے مختلف نوعیت کے پروگرام بھی ترتیب دیئے گئے تھے، جس کا آخری پروگرام شہزادی نورا یونیورسٹی میں منعقد کیا گیا تھا۔

سعودی عرب کی سماجی خدمات انجام دینے والی تنظیم کی رکن نوف الحمد کا کہنا تھا کہ وزارت انصاف کی جانب سے خواتین کو قانونی آگاہی فراہم کرنے اور خواتین وکلا کی خدمات کے حوالے کیے جانے والے وعدوں کو باخوبی نبھایا ہے۔

نوف الحمد کا کہنا تھا کہ سعودی وزارت انصاف کے خواتین سے متعلق انجام دیے جانے والے امور میں خواتین کے لیے عدالتوں میں علیحدہ ہال کی فراہمی اور فنگر پرنٹ کی سہولت مہیا کرنا نمایاں ہیں۔

ایڈوکیٹ دالیا الدوسری کا عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک کی ترقی میں خواتین کا کردار بہت واضح ہے، سعودی عرب میں خواتین وکلا کی تعداد میں پہلے کی نسبت اضافہ ہورہا ہے لہذا خواتین ملکی ترقی میں پہلے سے زیادہ کردار ادا کریں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وزارت انصاف کی جانب سے وکلالت کے شعبے میں خواتین کو بہترین تربیت فراہم کرنا ملک کے لیے خدمات انجام دینے کا ایک موقع ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں