The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب: سپریم کونسل نے ملک میں لیبر کورٹس کے قیام کی منظوری دے دی

ریاض : سپریم جوڈیشل کونسل نے سعودی حکام کی جانب سے 7 لیبر کورٹس اور ملک کے مختلف شہروں میں 96 نئے چیمبروں کو قائم کرنے کے حوالے پیش کردہ تجویز کی منظوری دے دی.

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب نے سنہ 2020 تک ملک میں بڑے منصوبے بنانے اعلان کیا تھا جس کے پہلے مرحلے میں سعودی حکام نے ملک کے بڑے شہروں میں 7 لیبر کورٹس جبکہ دیگر شہروں میں 96 لیبر چیمبرز بنانے کے حوالے سے پیش کردہ تجویز سپریم کونسل نے منظور کرلی۔

سعودی عرب کی سپریم جوڈیشل کونسل کے جنرل سیکریٹری سلمان الناشوان کا کہنا تھا کہ 7 لیبر کورٹس کا قیام ریاض، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، البریدہ، الدمام، ابھا اور جدہ میں عمل میں لایا جائے گا۔ جبکہ 96 لیبر چیمبرز کو عام عدالتوں اور اپیل کورٹس میں ہی قائم کیا جائے گا۔

جنرل سیکریٹری سلمان الناشوان کا کہنا تھا کہ مختلف شہروں میں 96 لیبر چیمبروں کے قیام کا فیصلہ وزارت مزدور اور سماجی ترقی کی جانب سے مزدوروں کے تنازعات کے حوالے سے پیش کردہ اعداد و شمار کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ منصوبے کا مقصد سعودی عرب میں مزدور قوتوں کو بااختیار بنانا ہے، لیبر کورٹس رواں برس ستمبر میں عدالتی امور کا آغاز کریں گے۔

سلمان الناشوان کا کہنا تھا کہ مزدور عدالتوں کے لیے ججز کے انتخاب میں بڑی احتیاط سے کام لیا گیا ہے اور اس حوالے سے سابقہ کارگردگی، بزرگی، اہلیت اور شعبہ قانون میں اعلیٰ تعلیم رکھنے والے افراد کو ہی منتخب کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ لیبر کورٹس اور مزودروں سے متعلق بین الاقوامی قوانین کے حوالے سے تحقیقات بھی کی گئی ہیں۔

سپریم جوڈیشل کونسل کے جنرل سیکریٹری کا کہنا تھا کہ ’لیبر کورٹس کے لیے منتخب کیے گئے ججز کو عدالیہ کے تربیتی مراکز میں خصوصی تربیتی منصوبے میں شامل کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لیبر کورٹس کے قیام کے بعد مزدروں کے مسائل لیبر کورٹس میں حل کیے جائے گے جو وزارت عدل کے زیر نگرانی کام کرے گا، جبکہ اس سے قبل لیبر تنازعات کو وزارت مزدور و سماجی ترقی کے حکام حل کرتے تھے۔

سعودی عرب کی وزارت عدل کا کہنا تھا کہ حکام لیبر کورٹس کے حوالے سے واضح مؤقف رکھتے ہیں اور ان عدالتوں کے قیام کا مقصد قانونی چارہ جوئی کے دورانیے میں کمی ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں