سعودی عرب کی 12 شعبوں میں غیر ملکیوں کو ملازمت دینے پر پابندی:Saudi Arabia
The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب: 12 شعبوں میں تارکین وطن کو ملازمت دینے پر پابندی عائد

ریاض: سعودی حکام نے 12 مختلف شعبوں میں تارکین وطن کو ملازمت دینے پر پابندی عائد کر دی، اب صرف سعودی شہری ہی ان شعبوں میں ملازمت حاصل کرسکیں گے۔

تفصیلات کے مطابق ولی عہد سلمان بن ولید کے ویژن 2030 کے تحت خواتین کو ملازمت کے میدان میں بڑی تعداد میں سامنے لایا جائے گا، جسے مدنظر رکھتے ہوئے تارکین وطن کو 12 شعبوں میں ملازمت دینا ممنوع قراردیا گیا ہے۔ اب شعبوں میں صرف سعودی شہری ملازمت حاصل کرسکیں گے۔

مقامی میڈیا کے مطابق اس اقدام پر عمل درآمد کا فیصلہ وزیر برائے افرادی قوت علی بن ناصر کی جانب سے ستمبر 2018 میں کیا جائے گا، جس کے اطلاق کے لیے حکمت عملی وضع کی جارہی ہے۔

سعودی عرب، تارکین وطن کے اقامے کی فیس 200 ریال ماہانہ مقرر

وزیر برائے افرادی قوت کے ترجمان خالد ابالخیل کا کہنا ہے کہ تارکین کی جن شعبوں میں ملازمت پر پابندی ہوگی، ان میں گھڑیوں کی دکان، آپٹیکل اسٹورز، الیکٹریکل شاپ، طبی آلات کے اسٹورز، تعمیراتی سامان کی دکانیں، گاڑیوں کے اسپیئر پارٹس کے اسٹورز، کارپیٹ کی دکان، آٹو موبائل، گھریوں اور فرنیچر کے شورومز، گھریلوں مصنوعات کی دکان اور بیکریاں شامل ہوں گی۔

پی آئی اے کی سعودی عرب اورچین کے لئے پروازوں کی تعداد میں اضافہ

یاد رہے کہ گذشتہ سال سعودی عرب میں تیل کی قیمتوں میں اچانک کمی سے ملک میں بے روزگاری کی شرح میں 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

واضع رہے کہ گذشہ سال نومبر میں سعودی عرب کے درجنوں بااثر افراد کی گرفتاری عمل میں آئی تھی، جن پر بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کا الزام تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں