The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب : گاڑٰی مالکان ہوشیار، محکمہ ٹریفک کی اہم وضاحت جاری

ریاض : سعودی عرب میں نئی اور پرانی گاڑیوں کی خرید و فروخت کے کئی مراکز ہیں جہاں جہاں پرانی اور ری کنڈیشنڈ گاڑیاں فروخت ہوتی ہیں۔

سعودی ٹریفک قوانین کے مطابق گاڑی فروخت کرنے کے بعد اسے فوری طورپرخریدار کے نام منتقل کیا جانا ضروری ہے، ضوابط کے مطابق کار شورومز کی انتظامیہ اس امر کی پابند ہیں کہ جب تک گاڑی خریدار کے نام منتقل نہ ہو اس وقت تک فروخت کی گئی گاڑی کو شوروم سے نہ نکالا جائے۔

ایک شخص نے ٹریفک پولیس سے دریافت کیا کہ گاڑی فروخت کرنے کے بعد خریدار نے گاڑی کی ملکیت اپنے نام منتقل نہیں کرائی جبکہ اس نے کہا تھا کہ فوری طور پر گاڑی اپنے نام منتقل کر لے گا۔

تین ماہ ہوچکے ہیں تاحال گاڑی اپنے نام منتقل نہیں کی اس دوران کئی چالان بھی میرے نام پر رجسٹر ہوچکے ہیں کیا کروں؟

سوال کا جواب دیتے ہوئے ٹریفک پولیس کی جانب سے کہا گیا کہ ضوابط کے مطابق گاڑی کی فروخت کا معاہدے ہوتے ہی رقم وصول کرنے کے فوری بعد خریدار کے نام گاڑی منتقل کرانا ضروری ہے۔

مذکورہ صورت میں جب کہ گاڑی خریدنے والے نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے اس کے خلاف متعلقہ قانون نافذ کرنے والے ادارے سے رجوع کیا جائے تاہم اس امر کا خیال رکھیں کہ اگر گاڑی فروخت کرنے کا معاہدہ شوروم کے ذریعے کیا گیا تھا جس میں شوروم کی جانب سے فروخت کی رسید جاری کی جاتی ہے۔

اس صورت میں شوروم کی رسید کے ہمراہ قریبی ادارہ ٹریفک پولیس کے شعبہ ’استمارہ‘ (گاڑی کا ملکیتی کارڈ) سے رجوع کیا جائے جہاں گاڑی فروخت کرنے کی رسید کے ہمراہ دیگر تفصیلات متعلقہ اہلکار کو پیش کریں تاکہ کارروائی کا آغاز کیا جائے۔

اگر گاڑی شوروم کے باہر فروخت کی گئی ہو جس میں کار شوروم کی جانب سے فروخت کی رسید موجود نہ ہو اس صورت میں ادارہ امن عامہ کے شکایات سیل سے رجوع کریں جہاں ایف آئی آر درج کی جائے گی اور گاڑی جس کو فروخت کی گئی ہے اسے طلب کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں ٹریفک قوانین کے تحت کسی بھی ٹریفک خلاف ورزی پر ہونے والا چالان گاڑی کی رجسٹریشن پلیٹ کے ذریعے اس کے مالک کے اکاونٹ میں فیڈ ہو جاتا ہے۔

ٹریفک پولیس کے ٹوئٹر پر دریافت کیا گیا کہ گھریلو ڈرائیور کا ویزہ جاری کیا ہے، معلوم یہ کرنا ہے کہ جس ڈرائیورکو ویزے پر بلایا جا رہا ہے اس کے پاس سعودی ڈرائیونگ لائسنس ہے مگر ایکسپائر ہے، کیا وہی لائسنس یہاں آنے کے بعد تجدید ہوگا؟

سوال کا جواب دیتے ہوئے ٹریفک پولیس کے ادارے کی جانب سے کہا گیا کہ سعودی ڈرائیونگ لائسنس ایکسپائر ہونے کی صورت میں اس کی تجدید کرائی جائے گی جس کے ساتھ ہی ڈرائیور کے سپانسر کے بارے میں بھی نئی تفصیلات سسٹم میں فیڈ کر دی جائیں گی۔

واضح رہے ادارہ ٹریفک پولیس کے سسٹم میں غیرملکی کارکنوں کے اقامہ پر درج سیریل نمبر ہی ڈرائیونگ لائسنس کا نمبرہوتا ہے۔ ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید 5 سے 10 برس کے لیے کی جاتی ہے جبکہ اقامہ کی تجدید سالانہ بنیاد پر ہوتی ہے۔

اگر کوئی غیرملکی خروج نہائی پر مملکت سے جاتا ہے اور اس کا ڈرائیونگ لائسنس موجود ہے تو وہ دوسرے ویزے پر آنے کے بعد پرانے لائسنس کی تجدید کرا سکتا ہے تاہم ایکسپائری کا جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ علاوہ ازیں لائسنس فیس ادا کی جائے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں