The news is by your side.

Advertisement

ریاض:خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی، آواز اٹھانے کے جرم میں 7 خواتین گرفتار

ریاض : سعودی پولیس نے خواتین کے حقوق اور ڈرائیونگ پر عائد پابندی کے خلاف آواز اٹھانے والی سات خواتین وکلاء کو غیرملکی طاقتوں سے رابطے کے شبے میں گرفتار کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کی پولیس نے خواتین کی ڈرائیونگ سے پابندی ختم ہونے سے کچھ ہفتے قبل خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سات خواتین وکلا کو گرفتار کیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے حکام نے خواتین وکلاء کی گرفتاری کی وجوہات واضح نہیں کی ہیں۔ البتہ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مذکورہ گرفتاریاں خواتین کو خاموش کروانے کی کوشش ہے۔

سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ سعودی حکام کو مذکورہ خواتین پر غیر ملکی طاقتوں سے رابطے کا شک تھا، جس کی بنیاد ہر انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کے قوانین کے مطابق سعودی خواتین کو اب بھی بیرون ملک سفر کرنے یا مختلف فیصلے لینے کے لیے گھر کے سرپرست مرد کی اجازت لینا ضروری ہوتی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ حراست میں لی گئی خواتین میں لجین ھذلول الھذلول، عزیزہ الا یوسف اور ایمان الا نجفان شامل ہیں، جو سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی کے خلاف برملا اظہار خیال کرتی تھی۔

یاد رہے کہ سعودی حکام نے گذشتہ برس ستمبر میں خواتین کی ڈرائیونگ کرنے کی اجازت دیتے ہوئے عائد پابندی کو ختم کیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ ولی عہد محمد سلمان نے سعودی خواتین پر عائد پابندیوں کو گذشتہ برس ختم کرنے کا آغاز کیا تھا۔ جس میں خواتین کے ڈرائیونگ کرنے اور سیر و تفریح کی غرض سے کھیل کے میدانوں میں اور سینما گھروں میں جانے اجازت ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ 32 سالہ ولی عہد محمد بن سلمان سعودی عرب کے حالیہ ترقیاتی منصوبے وژن 2030 کے بانیبھی ہیں، جن کی کوشش ہے کہ ملک کی اقتصادیات کا انحصار تیل پر سے کم کیا جائے۔

وژن 2030 کے حوالے سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان مصر اور اردن کے سرحدی علاقے میں 500 ارب ڈالر کے اقتصادی میگا سٹی کی تعمیر کا اعلان کیا تھا۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں وژن 2030 کے ترقیاتی کاموں کا آغاز ہوتے ہی گذشتہ برس نومبر میں دوجنوں شہزادوں، کاریوباری شخصیات اور وزیروں کو کرپشن کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا جن میں شہزادہ طلال بن عبد العزیز بھی شامل تھے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں