The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب: نوکری جائے گی، معاوضہ بھی نہیں‌ ملے گا، ملازمین ہوشیار!

ریاض: سعودی وزارت افراد قوت نے ان پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے جن کے تحت آجر کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ معاہدہِ ملازمت حقوق دیے بغیر ختم کر دے۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق وزارت افرادی قوت کا کہنا ہے کہ درجہ ذیل وجوہات کے سوا آجر کسی اور صورت میں اجیر کو انتباہ یا معاوضہ دیے بغیر معاہدہ منسوخ نہیں کرسکتا، اصولوں کی پاسداری لازمی ہے۔

وزارت نے بتایا کہ اگر اجیر نے ڈیوٹی کے دوران اپنے کسی سربراہ یا انچارج یا آجر پر ہاتھ اٹھایا یا کارکنان میں سے کسی ایک پر حملہ کیا تو ایسی صورت میں حقوق دیے بغیر آجر ملازم کو نکال سکتا ہے۔ ذمے داری ادا نہ کرنے، جان بوجھ کر ہدایات کو مسترد کرنے کی صورت میں بھی ورکر نوکری سے جائے گا۔

اسی طرح اجیر نے ضابطہ اخلاق یا امانت کے منافی کوئی کام کیا یا بدسلوکی کا مرتکب ہوا، اگر اجیر نے آجر کو مالی نقصان پہنچانے کی غرض سے کوئی کوتاہی کی یا جان بوجھ کر ایسا کوئی کام کیا، بشرطیکہ آجر متعلقہ اداروں کو واقعے کے علم کے 24 گھنٹے کے اندر اطلاع دے، ایسی صورت میں بھی مذکورہ بالا اصول لاگو ہوگا۔

اجیر کی جعل سازی پکڑی جائے، اجیر ایک سال کے دوران 30 روز سے زیادہ بلاوجہ غیرحاضر رہے یا مسلسل پندرہ روز سے زیادہ ڈیوٹی پر نہ آئے تب بھی انہیں معاوضہ نہیں ملے گا۔

یہ وہ صورتیں ہیں جس میں آجر مکافۃ نہایۃ الخدمۃ، انتباہِ یا معاوضہ دیے بغیر ملازمت کا معاہدہ منسوخ کرسکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں