The news is by your side.

سعودی عرب واپس جانے کا دوسرا طریقہ ؟ غیرملکیوں کیلئے بڑی خبر

ریاض : دنیا بھر سے روزگار کے حصول کیلئے سعودی عرب آنے والے غیرملکیوں کو دوران قیام بہت سی مشکلات درپیش ہوتی ہیں جس کے سدباب کیلئے وہ حکومتی ہدایات پر سختی سے عمل درآمد کرتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق غیرملکیوں کو ایگزٹ ری انٹری جسے عربی میں خروج وعودہ کہا جاتا ہے ماہانہ بنیاد پر جاری کیا جاتا ہے، ابتدائی طور پر دو ماہ کا ویزہ جاری ہوتا ہے جس کی فیس دوسو ریال ہوتی ہے۔

امیگریشن قانون کے مطابق ایگزٹ ری انٹری یعنی خروج وعودہ پر جانے والوں کو چاہیے کہ وہ مقررہ مدت کے دوران واپس آئیں اگر واپس نہ آنا ہو تو خروج وعودہ کی مدت میں توسیع کرائی جائے تاکہ ویزہ کارآمد رہے۔

سعودی عرب میں گزشتہ برس سے بیرون مملکت گئے ہوئے اقامہ ہولڈرز کی سہولت کے لیے آن لائن خروج وعودہ اور اقامہ کی مدت میں توسیع کرائی جاسکتی ہے۔

چھٹی پر گئے ہوئے ایک شخص کی جانب سے دریافت کیا گیا کہ چھٹی پر پاکستان گیا تھا اقامہ اور خروج وعودہ ختم ہوگیا، کفیل کا موسسہ بھی ریڈ میں ہے اس صورت میں دوسرے ویزے پر سعودی عرب جاسکتا ہوں؟

امیگریشن قوانین کے تحت وہ اقامہ ہولڈرز جو خروج وعودہ یعنی ایگزٹ ری انٹری پرجاتے ہیں اورمقررہ مدت کے دوران واپس نہیں آتے انہیں خروج وعودہ قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں شامل کر دیا جاتا ہے۔

خروج وعودہ قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آنے والوں کو "خرج ولم یعد” کی کیٹیگری میں شامل کر دیا جاتا ہے۔ ایسے افراد جو مذکورہ کیٹیگری میں شامل کر دیے جاتے ہیں انہیں تین برس کےلیے مملکت میں بلیک لسٹ کردیا جاتا ہے۔

ایسے افراد جنہیں بلیک لسٹ کیا جاتا ہے وہ مذکورہ مدت کے دوران کسی بھی دوسرے شخص یا کمپنی کے نئے ویزے پر نہیں آسکتے مدت ختم ہونے کے بعد انہیں دوسرے ویزے پر آنے کی اجازت ہوتی ہے۔

ممنوعہ افراد اگر پابندی کے دوران دوبارہ مملکت آنا چاہیں توانہیں اس بات کی اجازت ہوتی ہے کہ وہ سابق کفیل کے ہی نئے ویزے پر سعودی عرب آ سکتے ہیں۔

اقامہ کی مدت میں تجدید میں تاخیر کے حوالے سے ایک شخص کا سوال ہے کہ اقامہ تجدید نہیں ہوا، تین ماہ ہوچکے ہیں اس صورت میں سپانسر شپ تبدیل کرسکتا ہوں؟

سعودی عرب میں قانون محنت کے نکات میں کافی تبدیلیاں کی گئی ہیں جن پرعمل کرنا اسپانسر کی بھی ذمہ داری ہے۔ قانون کے مطابق کارکن کا اقامہ تجدید کرانا کفیل یا کمپنی کی ذمہ داری ہوتی ہے اگراقامہ وقت پرتجدید نہ کرایا جائے تو اس پرجرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔

اقامہ کی پہلی بار تجدید میں تاخیر پر جرمانہ 500 ریال عائد کیا جاتا ہے، جبکہ دوسرے برس بھی تاخیر ہونے پر1000 ریال جرمانہ ہوتا ہے۔

ایسے کارکن جن کے کفیلوں کی جانب سے اقامہ کی تجدید نہیں کرائی جاتی اور وہ اپنے اداروں میں کام کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اپنے مسئلے کے حل کے لیے وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود آبادی کے متعلقہ شعبے سے رجوع کریں جہاں موجود اہلکار کیس کا جائزہ لینے کے بعد کفالت کی تبدیلی کے احکامات صادر کرتے ہیں۔

وزارت افرادی قوت کی جانب سے مقرر کردہ کمیٹی اس امر کا جائزہ لیتی ہے کہ کفیل کی جانب سے کس نوعیت کی خلاف ورزی سرزد ہو رہی ہے۔

کمیٹی جائزہ لینے کے بعد کارکن کے کفیل کو تحریری طور پر پیشی کے لیے طلب کرتی ہے اگروہ تین پیشیوں پرحاضر نہیں ہوتا تو کمیٹی کی جانب سے فیصلہ صادر کر دیا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ اقامہ ایکسپائر ہونے کی صورت میں فوری طور پر وزارت افرادی قوت کے ادارے سے رجوع کر کے شکایت درج کرانا چاہیے تاکہ کارکن کی جانب سے بروقت تحریری شکایت درج ہوسکے۔

لیبر آفس میں کارکن کی جانب سے پہلے شکایت درج ہونے سے اس کا کیس مضبوط ہو جاتا ہے جس کا قوی امکان ہوتا ہے کہ کیس کا فیصلہ کارکن کے حق میں ہو کیونکہ بنیادی نکتہ اقامہ کی تجدید کا ہے جو کفیل یا کمپنی کی ذمہ داری ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں