The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب نے 6 ارب ڈالرز کا قرض معاف کردیا

ریاض : سعودی عرب نے بنی نوع انسان کی بھلائی کے لیے ترقی پذیر ممالک کے ذمےریاست کا واجب الادا اربوں ڈالرز کا قرضہ بخش دیا۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کی حکومت نے ایک مرتبہ پھر اسلامی قوانین پر عمل درآمد کرتے ہوئے پسماندہ ممالک کو قرض کی مد میں دئیے گئے 6 ارب ڈالر کی خطیر معاف کرکے انسانی ہمدردی کی ایک اور مثال قائم کردی۔

عرب خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ سعودی حاکم کی جانب سے مستحق ممالک کو دیا گیا معاف کرنے کے فیصلے پر سعودی عرب کی کابینہ نے منگل کے روز منظوری دی تھی۔

سعودی میڈیا کا کہنا تھا کہ پسماندہ ممالک کو جو رقم معاف کی گئی ہے وہ ریاست کا واجب الادا قرض تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب کی کابینہ نے منگل معنقدہ اجلاس میں مؤقف پیش کیا کہ ’سعودی عرب دنیا بھرمیں بسنے والے انسانوں کی بھلائی کے مقصد، سیکیورٹی، استحکام اور ترقی کی ضروریات کو پورا کرنے کی غرض سے تعاون پر زور دیتا ہے۔

عرب خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ ولی عہد کے وژن 2030 کے مقاصد اور اہداف کے حصول کے لیے سعودی کابینہ کی جانب سے قرض معاف کیا گیا ہے۔

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کا یہ اقدام دنیا میں معاشی، سیاسی اور انسانی کردار کو واضح کرتا ہے اور عالمی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا مظہر ہے۔

واضح رہے جمال خاشقجی کو دو اکتوبر کو سعودی عرب کے قونصل خانے کی عمارت کے اندر جاتے دیکھا گیا، جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں، وہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پر شدید تنقید کرتے رہے تھے اور یمن میں جنگ کے بعد ان کی تنقید مزید شدید ہوگئی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں