جمعرات, فروری 19, 2026
اشتہار

سعودی عرب میں اب کرائے دار کو کیا حقوق حاصل ہوں گے؟

اشتہار

حیرت انگیز

ریئل اسٹیٹ جنرل اتھارٹی نے سعودی عرب ریاض میں رہائشی یا کمرشل پراپرٹیز کے کرایوں کے حوالے سے کرایوں کو منظم کرنے کے حوالے سے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ کرایہ نامہ ’ایجار‘ پلیٹ فارم پر رجسٹر کرانا ضروری ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے شہر ریاض کے لیے ریئل اسٹیٹ کرایوں کے بارے میں اتھارٹی نے متعدد نکات جاری کیے ہیں جن پرعمل درآمد 25 ستمبر 2025 سے کیا جائیگا۔

وضاحتی بیان کے مطابق کرائے میں سالانہ اضافے کے حوالے سے اقتصادی و ترقیاتی امور کی کونسل کی منظوری کے بعد جنرل اتھارٹی برائے ریئل اسٹیٹ کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے فیصلے کے بعد دوسرے شہروں اور علاقوں میں (ضروری ہونے کی صورت میں) کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق کرایہ دار کو یہ حق ہے کہ وہ کرائے نامے کو ’ایجار نیٹ ورک‘ میں رجسٹر کرائے، فریق ثانی کو یہ حق ہو گا کہ وہ کرائے نامے میں درج شرائط پر 60 دن کے اندر اپنا اعتراض جمع کرائے۔

مذکورہ مدت ختم ہونے کے بعد کرایہ نام درست اور منظور شدہ تسلیم کیا جائے گا، یعنی مدت گزر جانے کے بعد اعتراض کرنا درست تصور نہیں ہوگا۔

کرایہ نامے کے نئے ضوابط کے مطابق (مملکت کے تمام شہروں) رجسٹرڈ کرایے نامے آئندہ برس کے لیے خود کار طریقے سے تجدید ہو جائیں گے۔

فریقین میں سے کوئی بھی اگر معاہدے کو جاری نہ رکھنے کا خواہشمند ہو تو اسے مقررہ تاریخ ختم ہونے سے 60 دن قبل آگاہ کرنا ہوگا۔

بعض حالات اس شق سے مستثنیٰ ہوں گی جن میں ’محدود مدت کا کرایہ نامہ‘ جس کی مدت ختم ہونے میں 90 یا اس سے کم دن باقی ہوں۔

پراپرٹی مالک کو ریاض شہر کی حدود میں یہ اختیار نہیں ہوگا کہ وہ اپنی مرضی سے کرائے کا معاہدہ ختم کر کے مکان یا دکان خالی کرائے۔

متحدہ عرب امارات: اماراتی میڈیا کونسل نے انتباہ جاری کردیا

اتھارٹی نے کرایہ دار سے مکان یا کمرشل پراپرٹی خالی کرانے کے لیے تین شرائط مقرر کی ہیں جن کی روشنی میں مالکان کو خالی کرانے کا اختیار حاصل ہوسکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق کرائے کی عدم ادائیگی، پراپرٹی کو نقصان پہنچنے کی صورت میں جس سے دیگر رہائشیوں کی سلامتی کو بھی خطرہ ہو تاہم اس صورت میں متعلقہ سرکاری کمیٹی کی رپورٹ پر عمل کرنا ضروری ہوگا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں