The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب: غیرملکی ملازمین کے لیے بڑی خوش خبری

ریاض: سعودی عرب میں کام کرنے والے مقامی اور غیرملکی ملازمین کے حقوق کی حفاظت کے لیے وزارت افرادی قوت وسماجی بہبود ایک قدم اور آگے بڑھ گئی۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سعودی وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود نے مملکت میں قانون محنت اور اس کے لائحہ عمل کی خلاف ورزی کی صورت میں آجر کے لیے مقرر سزاؤں کی قرارداد کا مسودہ جاری کردیا۔

قراردار کے مسودے میں اجیر کی تنخواہ تاخیر سے دینے کی سزا بھی تجویز کی گئی ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ورکرز کے مقررہ حقوق، تنخواہ میں تاخیر یا کٹوتی قانون محنت کی خلاف ورزی سمجھی جائے گی جس پر آجر کے خلاف سخت ایکشن لیا جاسکتا ہے اور جرمانہ بھی ممکن ہے۔

سعودی عرب میں نئی ملازمتوں کا اعلان

وزارت کا کہنا ہے کہ اگر 10 سے کم ملازم والے ادارے کے مالک نے تنخواہ وقت پر ادا نہ کی یا اس کا کچھ حصہ ناحق روک لیا تو ایسی صورت میں اس پر 3 ہزار ریال جرمانہ ہوگا۔

اسی طرح 10 سے زیادہ ورکر والے ادارے کے مالک پر جرمانہ 5 ہزار ریال ہوگا، جتنے ملازمین کی تنخواہوں میں گڑبڑ ہوگی اسی حساب سے جرمانہ بڑھتا چلا جائے گا، کارکنان کی تعداد زیادہ ہونے کی صورت میں جرمانہ بھی بڑھے گا۔

سعودی وزارت کا مزید کہنا تھا کہ اگر کسی ملازم کو ہفتے میں آرام کا وقفہ نہ دیا گیا یا اوقات کار اوور ٹائم کے بغیر بڑھا دیے گئے یا یومیہ آرام کے وقفے کی پابندی نہ کی گئی تو یہ بھی قانوناً جرم ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں