The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب عالمی منڈی پر گہرا اثرو رسوخ رکھتا ہے: امریکی جریدہ

واشنگٹن: امریکی جریدے نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پرحملوں نے عالمی منڈی میں ہل چل پیدا کردی ہے جس نے ثابت کیا ہے کہ توانائی کی عالمی منڈی میں سعودی عرب کا گہرا اثرو رسوخ ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی جریدے میں شایع کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات میں خلل پیدا ہوتا ہے تو اس کے اثرات پوری دنیا بھر مرتب ہوتے ہیں۔

یہ رپورٹ جو امریٹ راما کمار اور ایرا یوشباویلی نے تیار کی ہے۔ رپورٹ گذشتہ روز سعودی عرب کے اس اعلان سے قبل سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے مملکت تیل کی رسد اور سپلائی کی سطح کو برقرار رکھنے کے قابل ہے۔ دہشت گردانہ حملے کے نتیجے میں سعودی عرب کی تیل کی پیداوار پر منفی اثرات سے مملکت کے عالمی گاہکوں کو تیل کی سپلائی متاثر نہیں ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ امریکا کے شیل آئل کی مارکیٹ میں آمد کے باوجود تیل کی قیمتوں میں اضافہ فطری ہے۔ تیل کے شعبے کے سرمایہ کاروں کو یہ یاد دلایا گیا ہے کہ خام تیل کی قیمتیں دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پرحملوں کا نتیجہ ہیں۔

سرمایہ کاروں کا کہنا تھاکہ عالمی توانائی کی منڈی میں سعودی برآمدات کی اہمیت اور مستقبل میں ہونے والے حملوں کے امکانات سے قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ آتا رہے گا۔

تیل کی تنصیبات پر حملے یمن سے نہیں ایران سے ہوئے، سعودی عرب

عالمی تیل مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی کی قیمت میں 15 فیصد اضافے کے بعد اس کی قیمت 69.02 ڈالر فی بیرل ہوگئی جوکہ 1988ءکے بعد سے ایک روزہ کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔

منگل کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت 67 اعشاریہ 98 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ سعودی عرب تیل کے محفوظ ذخائر والا واحد ملک ہے جس کے ذخائر کو ہنگامی صورتحال میں جلدی سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سے چین، جاپان اور کوریا جیسے بڑے ایشیائی خریداروں کی تیل کی رسد پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں