The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب: تعلیم اور صحت میں‌ سرمایہ کاری، غیر ملکیوں کو بڑی سہولت

ریاض: سعودی عرب نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو تعلیم اور صحت کے شعبہ جات میں سو فیصد مالکانہ حقوق کے ساتھ کمپنیاں کھولنے کی اجازت دیتے ہوئے سعودی کمپنی کو شراکت دار بنانے کی شرط ختم کردی۔

گلف نیوز کے مطابق یہ اعلان سعودی عربین جنرل انویسٹمنٹ اتھارٹی کی جانب سے کیا گیا ہے۔

سعودی عرب میں نافذ قانون کے تحت کسی بھی شعبے میں رقم لگاتے وقت یا کاروبار کرتے وقت غیر ملکی سرمایہ کار اس بات کے پابند ہیں کہ وہ جوائنٹ وینچر کے ذریعے سرمایہ کاری کریں گے اور اس میں ایک سرمایہ کار مقامی یعنی سعودی ہوگا۔

حالیہ اعلان کے مطابق یہ شرط صرف تعلیم اور صحت کے دو شعبہ جات سے ختم کردی گئی ہے تاہم بقیہ شعبہ جات میں عائد رہے گی۔

سعودی عربین جنرل انویسٹمنٹ اتھارٹی کے گورنر ابراہیم العمر نے عالمی خبر رساں ادارے رائٹر کو بتایا کہ ہم سو فیصد مالکانہ حقوق پر تعلیمی ادارے کھولیں گے جس میں ہر قسم کی تعلیم شامل ہے بشمول پرائمری اسکول، یہ سعودیہ عرب میں ایک نیا قدم ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسی طرح شعبہ صحت میں وزارت صحت مزید خدمات فراہم کرنے کے بجائے صرف ریگولیٹری اتھارٹی بن کر صحت کے مراکز کی نگرانی کرے گی، ہمارے اس اقدام سے اگلے پانچ برس میں 180 ارب ڈالر (660.6 ارب ریال) کے سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے۔

انہوں نے یہ واضح نہیں کیا تعلیم و صحت کے شعبہ جات میں یہ چھوٹ کس تاریخ سے ملے گی تاہم امکان ہے کہ چند دنوں بعد اس ضمن میں نوٹی فکیشن جاری کردیا جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں