The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب : غیر ملکی ملازمین کے حقوق سے متعلق بڑا فیصلہ

ریاض : سعودی عرب میں قومی کمیٹی برائے انسداد انسانی اسمگلنگ نے کہا ہے کہ کارکن کو اقامہ نہ دینا اور  پاسپورٹ حوالے نہ کرنا بھی انسانی اسمگلنگ کی سرگرمی کے دائرے میں آتا ہے۔

اسپانسر کو سعودی قانون کے بموجب اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ اپنے گھریلو ملازمین میں سے کسی کا بھی اقامہ یا پاسپورٹ یا کوئی شناختی دستاویز اپنے قبضے میں رکھے اور کارکن کو اس سے محروم رکھے۔

سبق ویب سائٹ کے مطابق انسداد انسانی اسمگلنگ کی قومی کمیٹی نے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کہا ہے کہ غیر قانونی طریقے سے کارکن سے کام لینا، ایسی ڈیوٹی لینا جو اس کی ملازمت کے معاہدے کے منافی ہو اور اس سے مطابقت نہ رکھتی ہو انسانی اسمگلنگ میں شمار ہوتا ہے۔

انسداد انسانی اسمگلنگ کی کمیٹی نے یہ بھی بتایا کہ کارکن کو دفتر یا کارخانے یا کام کی جگہ سے نکلنے سے روکنا اسے مقررہ وقت پر حقوق نہ دینا، اسے مقررہ حد سے کم محنتانہ دینا یا چھٹی کے دنوں میں چھٹی کرنے سے روکنا انسانی اسمگلنگ ہے۔

انسداد انسانی اسمگلنگ کی قومی کمیٹی نے توجہ دلائی کہ گھریلوعملے کو صحت نگہداشت کی سہولت فراہم نہ کرنا، رہنے سہنے کے لیے جگہ فراہم نہ کرنا یا غیر معیاری رہائش دینا اور بغیر کسی وقفے کے گھنٹوں ڈیوٹی لینا انسانی اسمگلنگ میں شمار ہوگا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں