The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب : غیرملکیوں کیلئے "جوازات” کی خاص ہدایات

ریاض : سعودی قوانین کے تحت اگر کسی شخص پر کوئی مالی لین دین کا مقدمہ ہو اور فریق مخالف عدالت سے رجوع کرے اس صورت میں مقدمے کی کارروائی مکمل ہونے تک مدعی عدالت سے یہ مطالبہ کرسکتا ہے کہ فریق مخالف کا نام ای سی ایل میں شامل کیا جائے تاکہ مقدمے کے ختم ہونے تک وہ پابند رہے۔

عدالتی حکم پر جوازات یا دیگر سرکاری ادارے اس شخص کی فائل سیز کردیتے ہیں جس کی وجہ سے اس کے تمام سرکاری معاملات رک جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں سروسز سیز ہونے کے حوالے سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ قرض کی وجہ سے سروسز بند ہیں، رقم ادا نہیں کی گئی کیا خروج وعودہ ویزہ لگ سکتا ہے؟

ترجمان جوازات کا کہنا تھا کہ جس غیرملکی کارکن کی سروسز سیز ہوں گی اس کی فائل بھی عارضی طور پر بند کردی جاتی ہے جس کی وجہ سے اسے "خروج وعودہ” ویزہ جاری نہیں کیا جاسکتا۔

واضح رہے جب تک عدالتی کارروائی مکمل نہیں ہوجاتی یا قرض کی رقم فریق مخالف کو ادا کرنے کے بعد عدالتی حکم نہ حاصل کرلیا جائے، جوازات کے ادارے میں عارضی طور پر بند کی جانے والی فائل کو بحال نہیں کیا جاسکتا۔

جوازات میں فائل کھولے جانے کے بعد سفری پابندی ہٹائی جاتی ہے جس کے بعد "خروج عودہ” یا فائنل ایگزٹ لگایا جاسکتا ہے اس سے قبل ایگزٹ ری انٹری نہیں لگایا جاسکتا۔

خیال رہے کہ مالی معاملات میں بینکوں سے لیا گیا قرضہ یا قسطوں پرحاصل کی گئی گاڑی وغیرہ جس کی قسطیں ادا نہ کی گئی ہوں اس صورت میں بھی بینک یا کمپنی کی جانب سے اس شخص کی فائل سیز کرنے کی درخواست دی جاسکتی ہے جس کے بعد فائل اس وقت تک نہیں کھولی جاتی جب تک قرض کی رقم واپس نہ کی گئی ہو۔

خروج نہائی کے بارے میں ایک شخص نے دریافت کیا کہ بچے اور اہلیہ خروج وعودہ پرگئے ہوئے ہیں،اسپانسر نے میرا خروج نہائی لگا دیا کیا اہل خانہ جو چھٹی پرگئے ہیں ان کا خروج نہائی لگانا ہوگا یا نہیں؟‘

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان محکمہ جوازات کا کہنا تھا کہ خروج وعودہ پرگئے ہوئے فیملی ممبران کا فائنل ایگزٹ لگانا ممکن نہیں ہوسکتا۔

اگر فیملی ممبران "خروج وعودہ” پر گئے ہوئے ہوں اور سربراہ خانہ کی ملازمت ختم ہونے پر اسپانسر کی جانب سے سربراہ کا فائنل ایگزیٹ یعنی خروج نہائی لگا دیاجائے اس صورت میں باقی فیملی ممبران کا بھی ” خروج عودہ” ختم ہوکر ان کا بھی خروج نہائی لگ جاتا ہے۔

ایسے افراد جو "خروج وعودہ” پرگئی ہوئی اپنی فیملی کا اقامہ کینسل کرانا چاہتے ہیں تاکہ انہیں فیملی فیس ادا نہ کرنا پڑے اس صورت میں انہیں جوازات کی سروس "خرج ولم یعد” کومنتخب کرنا ہوتا ہے جس کے ذریعےوہ "خروج وعودہ” پر گئی ہوئی فیملی کا اقامہ کینسل کرانے کے بعد اپنا اقامہ بغیر فیملی فیس ادا کیے تجدیدکرسکتے ہیں۔

یاد رہے کہ سعودی عرب میں مقیم وہ تارکین جو اپنی فیملی کے ہمراہ ہیں انہیں ماہانہ بنیاد پر400 ریال فی فرد کے ادا کرنا ہوتا ہے جو اقامہ کی تجدید کے وقت جمع کرانا ہوتا ہے اگر فیملی فیس ادا نہ کی جائے تو کارکن کے اقامہ کی تجدید نہیں ہوتی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں