The news is by your side.

سعودی عرب : حکومت نے تارکین وطن کی بڑی مشکل کا آسان کردی

ریاض : دنیا بھر سے روزگار کیلئے سعودی عرب آنے والے غیرملکیوں کو امیگریشن قوانین سے ناواقفیت کے باعث بہت سی مشکلات درپیش ہوتی ہیں، جس کے سدباب کیلئے محکمہ جوازات نے اہم اقدامات کیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں امیگریشن قوانین واضح ہیں، غیرملکیوں کے رہائشی کارڈ اقامہ اور ایگزٹ ری انٹری ’خروج وعودہ‘یا فائنل ایگزٹ جسے عربی میں’خروج نہائی‘بھی کہا جاتا ہے کا ذمہ دار ادارہ جوازات ہے۔

جوازات کے قانون کے مطابق فائنل ایگزٹ یعنی خروج نہائی کی کوئی فیس نہیں ہوتی جبکہ ایگزٹ ری انٹری کی فیس مقرر ہے جو کہ ماہانہ حساب سے وصول کی جاتی ہے۔

ایک شخص نے استفسار کیا ہے سائق خاص کے ویزے پرمقیم ہوں، فائنل ایگزٹ لگانے کے لیے اقامہ میں کم از کم کتنی مدت باقی ہونا ضروری ہے؟

سعودی محکمہ امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کے قانون کے مطابق جس وقت فائنل ایگزٹ لگانے کی کارروائی کی جاتی ہے اس وقت لازمی ہے کہ اقامہ ایکسپائرنہ ہو۔

ایکسپائراقامہ پر فائنل ایگزٹ یعنی خروج نہائی نہیں لگایا جاسکتا۔ اگراقامہ ایکسپائر ہے اورخروج نہائی درکار ہو تواس صورت میں پہلے اقامہ تجدید کرایا جائے جس کے لیے اب یہ سہولت فراہم کی گئی ہے کہ 3 ماہ کے لیے بھی اقامہ تجدید کرایاجاسکتا ہے۔ اس سہولت سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

فائنل ایگزٹ کے لیے اگراقامہ کی مدت میں 10 دن بھی ہوں تو خروج نہائی لگایا جاسکتا ہے۔ فائنل ایگزٹ لگائے جانے کے بعد کارکن کے پاس 60 دن کی مہلت ہوتی ہے اس دوران اسے سفرکرنا ضروری ہوتا ہے۔

اس مدت کے دوران سفرکا ارادہ منسوخ کرنے کی صورت میں لازمی ہے کہ 60 روز ختم ہونے سے قبل خروج نہائی کو کینسل کرایا جائے۔

خروج نہائی کینسل کراتے وقت ضروری ہے کہ اقامہ ایکسپائرنہ ہو۔ اقامہ ایکسپائرہونے کی صورت میں خروج نہائی کینسل نہیں کرایا جاسکتا اس کے لیے لازمی ہے کہ پہلے اقامہ کی مدت میں توسیع کرائی جائے اوراس کے فوری بعد خروج نہائی ویزے کو کینسل کرنے کی کارروائی کی جائے۔

فائنل ایگزٹ کے لیے دی گئی 60 روزہ مہلت کے ختم ہونے اورسفرنہ کرنے کی صورت میں ایک ہزار ریال جرمانہ عائد کیاجاتا ہے۔

خیال رہے اگرخروج نہائی مقررہ مدت جو کہ 60 روزہ ہوتی ہے کے اندر کینسل کرانے پرجرمانہ عائد نہیں ہوتا تاہم اس کےلیے اقامہ کی مدت باقی ہونا ضروری ہے۔

ایک شخص نے پوچھا ہے کہ سعودی عرب میں الیکٹریشن کے طورپرکام کیا۔انجینئرنگ کونسل میں بھی اسی پیشے پر رجسٹریش کرائی گئی تھی، معلوم یہ کرنا ہے کہ فائنل ایگزٹ پرجانے کے بعد مکینک کے ویزے پرآسکتے ہیں جس کا ڈپلومہ بھی ہے؟

وزارت افرادی قوت وسماجی بہبود آبادی کی جانب سے غیر ملکی کارکنوں کے لیے لازمی ہے کہ وہ اپنے مقررہ پیشے کے مطابق پیشہ ورانہ اسناد پیش کریں۔

فنی شعبوں سے وابستہ افراد کےلیے لازمی ہے کہ وہ مقررہ (پشے کے اعتبارسے ) ٹیکنیکل کونسلز میں خود کو رجسٹرکرائیں۔

مقررہ کونسلز میں کارکن کو اس کے پیشے کے مطابق ٹیسٹ دینا ہوتا ہے جسے پاس کرنے پر ہی انہیں سرٹیفکیٹ جاری کیاجاتا ہے جو وزارت افرادی قوت وسماجی بہبود آبادی کے پورٹل سے لنک ہوتا ہے۔

مقررہ کونسل سے جاری ہونے والی ٹیسٹ کی کامیابی کے بعد ہی کارکن کا ورک پرمٹ جاری کیاجاتا ہے جس کے بعد ہی اقامے کی تجدید یا اجرا کی کارروائی ہوتی ہے۔

جہاں تک نئے ویزے اور دوسرے پیشے پرآنے کا سوال ہے تو قانونی طورپراس میں کوئی ممانعت نہیں جوکارکن قانونی طورپرفائنل ایگزٹ پرمملکت سے جاتا ہے وہ دوبارہ جب چاہے دوسرے ویزے پرمملکت آسکتا ہے۔

اگراس کے خلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی عمل میں نہ لائی گئی ہو اوراس کا ریکارڈ صاف ہو تو وہ جب چاہے دوسرے ویزے پر مملکت آسکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں