The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب میں غیرملکی کا کاروبار قانونی قرار، مگر کیسے؟

ریاض : سعودی وزارت تجارت نے کہا ہے کہ خمیس مشیط میں ایک اور کمپنی نے خود کو مہلت کے دوران قانون کے دائرے میں لا ئی ہے۔ کمپنی کی سالانہ تیس ملین سے زیادہ ہے۔

اخبار24 کے مطابق وزارت تجارت نے بیان میں کہا کہ ٹائر بنانے والی کمپنی تجارتی پردہ پوشی کے جرم میں ملوث تھی۔ پچھلے 22 برس سے ایک غیر ملکی سعودی شہری کے نام سے ٹائر کا کام کر رہا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ کمپنی نے سعودی حکومت کی جانب سے تجارتی پردہ پوشی کی مہلت سے فائدہ اٹھایا ہے۔ سعودی شہری اور مقیم غیرملکی کی شراکت سے نئی کمپنی بنائی گئی جو قانون کے مطابق ہے۔

واضح رہے کہ وزارت تجارت کی جانب سے مملکت میں ایسے افراد جنہوں نے سعودی شہریوں کے ناموں سے ذاتی کارروبار کیے ہوئے ہیں کے خاتمے کے لیے گزشتہ برس 6 ماہ کی مہلت دی تھی جس میں 16 فروری2022تک توسیع کی گئی۔

تجارتی پردہ پوشی "تستر تجارتی” کی اصطلاح غیرقانونی تجارت کرنے والوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں