ہفتہ, جون 6, 2026
اشتہار

سعودی عرب : اقامہ سے متعلق اہم قوانین کا اطلاق

اشتہار

حیرت انگیز

ریاض : سعودی عرب میں اقامہ (رہائشی اجازت نامہ) کی مدت ختم ہونے کے بعد اسے رینیو نہ کرایا جائے تو اس صورتحال میں اور سخت قوانین کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

لہٰذا اس قسم کی صورتحال سے بچنے کیلیے غیر ملکیوں کو چاہیے کہ وہ سعودی لیبر قوانین کے مطابق متعلقہ چینل یا اسپانسر کے ذریعے محفوظ طریقے سے اس عمل کو مکمل کریں۔

اس سلسلے میں سعودی عرب میں اقامہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے غیر ملکی کارکنوں کے لیے نئی ہدایات جاری کردی گئی ہیں، جن کے مطابق اگر کسی فرد کا اقامہ تین ماہ سے زائد عرصے تک ختم رہے تو وہ بغیر کفیل کی اجازت کے بھی دوسرے آجر کے پاس منتقل ہوسکتا ہے۔

No description available.

جاری کردہ معلومات کے مطابق سعودی لیبر قوانین کا مقصد غیر ملکی ملازمین کے حقوق کا تحفظ اور ملازمت کے نظام کو مزید شفاف بنانا ہے۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے ملازمین جن کا اقامہ طویل عرصے سے تجدید نہ ہوسکا ہو، انہیں بعض شرائط کے تحت نئی ملازمت اختیار کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق منتقلی کے لیے سب سے پہلے نئے آجر کی جانب سے جاب آفر جاری کی جائے گی، جسے کارکن کو “قوی” پلیٹ فارم پر قبول کرنا ہوگا۔

اگر اقامہ تین ماہ سے زائد عرصے سے ایکسپائر ہوچکا ہو تو موجودہ اسپانسر کی منظوری کے بغیر بھی کارکن نئے کفیل کے پاس منتقل ہوسکتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ گھریلو ملازمین اس قانون میں شامل نہیں ہوں گے کیونکہ ان کے لیے علیحدہ سے قواعد و ضوابط نافذ کیے گئے ہیں، ۔

سعودی حکام نے کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ منتقلی سے قبل تمام مالی واجبات اور بقایا جات کی ادائیگی یقینی بنائیں، جبکہ یہ بھی چیک کریں کہ ان کے خلاف کسی قسم کی “ہروب” رپورٹ درج نہ ہو۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی قوانین کارکنوں کے حقوق کے تحفظ اور قانونی عمل کو مضبوط بنانے کے لیے متعارف کرائے گئے ہیں، تاکہ ملازمین محفوظ اور شفاف ماحول میں کام کرسکیں۔

 

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں