The news is by your side.

Advertisement

سعودی ولی عہد کے قریبی افسر کی نگرانی میں جمال خاشقجی کا مبینہ قتل ہوا، مغربی میڈیا

واشنگٹن: مغربی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ لاپتا سعودی صحافی جمال خاشقجی کا مبینہ قتل سعودی ولی عہد کے قریبی افسر کی موجودگی میں ہوا۔

مغربی میڈیا کے مطابق کہ استنبول میں سعودی سفارت خانے سے لاپتا ہونے والے صحافی جمال خاشقجی کا مبینہ قتل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے قریبی افسر کی موجودگی میں ہوا ہے، ایسا ممکن نہیں کہ صحافی کے قتل سے سعودی ولی عہد لاعلم ہوں۔

دوسری جانب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر سے ٹیلی فونک گفتگو میں صحافی جمال خاشقجی کے واقعے پر لاعلمی ظاہر کی جبکہ سعودی حکام نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو معاملے کی شفاف تحقیقات اور ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کا یقین دلایا۔

سعودی ولی عہد نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے ملاقات کے موقع پر کہا کہ معاملے کی تحقیقات کے سب کچھ واضح ہوجائے گا، جلد ہی تمام سوالوں کے جواب سامنے آجائیں گے، لاپتا صحافی کے معاملے میں جو بھی ملوث پایا گیا اسے سزا دیں گے۔

محمد بن سلمان کو جمال خاشقجی کی گمشدگی کا قصور وار ٹھہرایا جارہا ہے جبکہ ترک حکام کا ماننا ہے کہ صحافی کو سفارت خانے میں قتل کردیا گیا تاہم سعودی حکام نے ترک دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے رد کردیا ہے۔

خاشقجی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پر شدید تنقید کرتے رہے تھے اور یمن میں جنگ کے بعد ان کی تنقید مزید شدید ہوگئی تھی۔

مزید پڑھیں: جمال خاشقجی کو سعودی قونصل خانے میں قتل کردیا، امریکی اخبارکا دعویٰ

واضح رہے امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں سعودی قونصل خانے میں قتل کرکے لاش کے ٹکڑے کردئیے گئے، قتل میں سعودی خفیہ ایجنسی کے اعلیٰ افسران ملوث ہیں۔

یاد رہے کہ جمال خاشقجی امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے کالم نویس ہیں اور وہ دو اکتوبر کو استنبول میں سعودی قونصلیٹ میں جانے کے بعد سے لاپتا ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں