ریاض: سعودی عرب میں ریلوے ’سار‘ نے کارگو ٹرینوں کے ذریعے ایک بین الاقوامی لاجسٹک کوریڈور کا آغاز کردیا ہے، جو دمام میں کنگ عبدالعزیز پورٹ، جبیل میں کنگ فہد انڈسٹریل پورٹ اور الحدیثہ بارڈر پر جبیل کمرشل پورٹ سے جوڑتا ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ اقدام اردن اور سعودی عرب کے شمال میں واقع ملکوں کے ساتھ براہ راست رابطے کو مضبوط بنانے کے ساتھ، ایک موثر زمینی راستے کے ذریعے علاقائی تجارت کو فروغ دیتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ’سار‘ کے مشرقی علاقے کی بندرگاہوں سے ریلوے نیٹ ورک کے ذریعے کنٹینرز کو الحدیثہ بارڈر تک پہچانے کی اس نئی سروس سے اردن اور مملکت کے شمال میں واقع ممالک تک براہ راست راستے کھلیں گے۔
اس سے برآمدات اور ری ایکسپورٹ کے عمل کو بھی تقویت ملے گی، جبکہ ٹرانسپورٹیشن کا نظام پہلے سے زیادہ موثر اور قابل اعتماد ہو جائے گا۔
سعودی ریلوے کا کہنا تھا’اس لاجسٹک کوریڈور سے صنعتکاروں کو اپنی مصنوعات مشرقی ریجن کی بندرگاہ سے الحدیثہ بارڈر تک منتقل کرنے کی سہولت ہو گی، جہاں سے اردن اور مملکت کے شمالی حصے تک پہنچائی جا سکیں گی۔‘
’اسی ٹریک کے ذریعے اردن و دیگر ملکوں سے سامان، مملکت کی مشرقی بندرگاہ تک پہنچ سکے گا، جس سے مال برداری اور سپلائی چین کی صورتحال بہتر ہو گی۔‘
ریلوے کوریڈور کے ذریعے روایتی روڈ ٹرانسپورٹیشن کے مقابلے میں 1700 کلو میٹر کی مسافت نصف وقت میں طے کی جا سکے گی، جبکہ سامان کی گنجائش بھی ایک ٹرین میں 400 کنٹینر سے تجاوز کرجائے گی۔
ایران نے ملائیشیا کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دیدی
ریلوے کوریڈور سے لاجسٹک سروسز پر براہ راست مثبت اثرات مرتب ہوں گے، شاہراہوں پر موجود ہزاروں ٹرکس کی بھی ضرورت نہیں رہے گی، جبکہ کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


