The news is by your side.

Advertisement

کیا سعودی عرب میں غیرملکیوں پرعائد فیس واپس لی جارہی ہیں؟

ریاض: سعودی مجلس شوریٰ نے وزارت صحت و سماجی بہبود سے کہا ہے کہ غیرملکی کارکنان پر فیس کے منفی اثرات کا جائزہ تیار کرایا جائے اور اقتصادی سطح پر اس کے کیا اثرات پڑ رہے ہیں اس کی تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔

عرب میڈیا کے مطابق مجلس شوریٰ کے ارکان نے وزارت محنت اور سماجی بہبود کی سالانہ مالیاتی رپورٹ پر بحث کی، ارکان شوریٰ نے نطاقات پروگرام پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اس سے سعودائزیشن کی مطلوبہ شرح حاصل نہیں ہوئی۔

بعض ارکان شوریٰ نے کہا کہ بے روزگاری میں کمی کے اثرات کا وزارت محنت سے تعلق نہیں، وجہ یہ ہے کہ بیشتر غیرملکی سعودی عرب کو خیرباد کہہ کر اپنے وطن چلے گئے ہیں۔

دوسری وجہ یہ قرار دی گئی کہ مختلف خدمات پر فیسوں میں اضافہ کردیا گیا ہے، وزارت محنت کی کسی کاوش کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہے، وزارت بیروزگاری ختم کرانے کے لیے کوششیں تیز کرے۔

رکن شوریٰ عساف ابوثنین نے اس امر پر زور دیا کہ بیروزگاری کے مناسب حل جلد از جلد پیش کیے جائیں، سماجی اور اقتصادی، سطح پر کارکنان پر مقررہ فیس کے منفی اثرات کا جائزہ بھی تیار کیا جائے۔

خاتون رکن شریٰ ڈاکٹر سامیہ بخاری نے وزارت محنت و سماجی بہبود سے مطالبہ کیا کہ وہ نجی اداروں میں سعودیوں کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنے کے لیے مزید محنت کرے، زیادہ سے زیادہ شعبوں میں سعودائزیشن کی جائے۔

سعودیوں کو کلیدی اسامیوں پر تعینات کرنے کے لیے ان کی مدد کی جائے، سعودیوں کی کم از کم تنخواہ میں اضافہ کیاجائے۔

ایک اور رکن شوریٰ نے کہا کہ سعودی نوجوانوں کو ریٹیل کے کاروبار کی زیادہ سے زیادہ ترغیبات دی جائیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں