موبائل کے ذریعے جاسوسی کرنے پر میاں بیوی کو ایک سال قید جبکہ 500 ریال کا جرمانہ ہوگا:
The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب: موبائل کے ذریعے جاسوسی کرنا اب میاں بیوی کو مہنگا پڑ سکتا ہے

ریاض: سعودی عرب میں منظور ہونے والے ایک نئے سائبر کرائم قانون کے مطابق میاں  بیوی کو موبائل فون کے ذریعے ایک دوسرے کی جاسوسی کرنے پر ایک سال قید جبکہ 500 ریال کا جرمانہ ہوسکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں میاں بیوی میں سے کسی بھی فرد پر موبائل فون کے ذریعے جاسوسی کا الزام ثابت ہوا تو ایک سال کی سزا اور پانچ سو ریال جرمانہ ہوگا جبکہ  سزاؤں کا اطلاق ایک ساتھ دونوں پر بھی ہوسکتا ہے۔

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ جاسوسی کی نیت سے میاں بیوی کا ایک دوسرے کا موبائل فون چیک کرنا اب جرم تصور جائے گا، میاں بیوی میں سے کسی نے بھی جانچ پرتال کی غرض سے موبائل فون کی پرائیویسی میں مداخلت کی کوشش کی تو سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

چینی ہیکرز ’واٹس ایپ‘ پر بھارتیوں کی جاسوسی کرنے لگے؟

مشیر قانون عبد العزیر باتل نے منظور ہونے والے قانون سے متعلق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں گھریلوں سطح پر جاسوسی کا رجحان بڑھ رہا ہے تاہم مذکورہ قانون ہمیں اس قسم کے واقعات کے روک تھام میں مدد فراہم کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ جاسوسی کا الزام ثابت ہونے پر میاں یا بیوی سے لی گئی جرمانے کی مدد میں رقم قومی خزانے میں جمع کرائی جائے گی جبکہ جاسوسی صرف موبائل فون تک ہی محدود نہیں بلکہ کمپیوٹرز اور کیمروں کی مدد سے کی جانے والی جاسوسی پر بھی مذکورہ قانون کا اطلاق ہوگا۔

ڈونلڈٹرمپ نےانٹرنیٹ جاسوسی پروگرام کی دوبارہ اجازت دےدی

مشیر قانون کا مزید کہنا تھا کہ اس قانون کا ایک اہم فائدہ یہ ہوگا کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے موبائل فون کو بغیر اجازت استعمال نہیں کر سکیں گے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں