سعودی عرب کی پریمیئم ریزیڈنسی ’اقامہ ممیزہ‘ سینٹر کا کہنا ہے کہ دنیا کے 20 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے 100 سے زیادہ کاروباری افراد کو کاروباری پریمیئم اقامہ Entrepreneur Residency جاری کردیا گیا ہے۔
سعودی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ اعلان سینٹر کی جانب سے ’بیبان 2025‘ فورم کے دوران کیا گیا ہے جسے جنرل اتھارٹی برائے چھوٹے اور درمیانے درجے کے ادارے کی جانب سے ریاض فرنٹ ایکسپو اینڈ کنفرنس سینٹر میں منعقد کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ اقدام سعودی عرب کو عالمی سطح پر باصلاحیت افراد، ماہرین اور کاروباری شخصیات کے لئے پرکشش مرکز بنانے اور اختراع و سرمایہ کاری کے ماحول کو فروغ دینے کی سینٹر کی کوششوں کا حصہ ہے جو وژن 2030 کے اہداف کے مطابق قومی معیشت کی ترقی میں مددگار ثابت ہوگا۔
سینٹر کی جانب سے وضاحت کی گئی ہے کہ کاروباری اقامہ اس کی نمایاں خدمات میں سے ایک ہے جو ان کاروباری افراد کے لئے مخصوص ہے جو تکنیکی اختراعات پر مبنی سٹارٹ اَپس کے مالک ہیں اور اپنی سرگرمیاں مملکت کے اندر وسعت دینا چاہتے ہیں۔
یہ اقامہ معیاری روزگار کے مواقع پیدا کرنے، مسابقت اور معاشی پائیداری کو فروغ دینے میں کردار ادا کرے گا۔
سعودی عرب کے اقامہ قوانین، ہزاروں افراد کے خلاف فیصلے جاری
پریمیئم ریزیڈنسی سینٹر اس وقت 7 بنیادی اقامے فراہم کرتا ہے، جن میں غیر معمولی مہارت کا اقامہ، باصلاحیت افراد کا اقامہ، کاروباری سرمایہ کار کا اقامہ، چھوٹے کاروبار کا اقامہ، جائیداد کے مالک کا اقامہ، محدود مدتی اقامہ اور غیر محدود مدتی اقامہ شامل ہے۔
ان اقاموں کے حامل افراد کو متعدد مراعات حاصل ہوتی ہیں جیسے کہ خود اور اپنے اہلِ خانہ کے لئے قیام، تجارتی سرگرمیوں کی اجازت، جائیداد کی ملکیت، اور اقربا کی میزبانی شامل ہے۔


