The news is by your side.

Advertisement

سعودی وزارت داخلہ کی اسکیم کے ذریعے 3 ہزار سے زائد قیدی رہا

ریاض: سعودی عرب میں وزارت داخلہ کی اسکیم فرجت کے ذریعے ایک سال میں اب تک 3 ہزار سے زائد قیدی رہائی پا چکے ہیں، اس سال رمضان میں 691 قیدی رہا ہوئے۔

سعودی ویب سائٹ کے مطابق سعودی عرب میں مالی جرائم میں گرفتار قیدیوں کی رہائی کے لیے وزارت داخلہ کی جانب سے شروع کی جانے والی اسکیم فرجت کے تحت ایک برس کے دوران 136 ملین ریال ادا کیے گئے جن سے 3 ہزار 281 افراد مستفید ہوئے ہیں۔

ادارہ جیل خانہ جات کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سال رمضان میں 691 افراد کے ذمہ 55 ملین ریال کی ادائیگی کی گئی ہے۔

ترجمان جیل خانہ جات کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ کی جانب سے گزشتہ برس مالی مقدمات میں قید افراد کی رہائی کے لیے خصوصی تعاون مہم فرجت لانچ کی گئی تھی۔

مہم کا مقصد ایسے سعودی اور غیر ملکی قیدیوں کی رہائی ممکن بنانا ہے جو مختلف مالی مقدمات میں قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، اسکیم کے تحت کوئی بھی شخص کسی بھی قیدی کی رہائی کےلیے مکمل رقم یا اس کا کچھ حصہ جمع کروا سکتا ہے۔

فرجت اسکیم میں لاگ ان کرنے کے بعد قیدیوں کے براؤز میں ان قیدیوں کے بارے میں تفصیلات درج ہوتی ہیں جن میں ان کے ذمہ واجب الادا رقم اور ان کی شہریت درج ہوتی ہے جبکہ شناخت کو رازداری کی وجہ سے بیان نہیں کیا جاتا۔

مہم کو شروع کیے ایک برس کا عرصہ مکمل ہو گیا ہے اور اس دوران اب تک 3 ہزار 281 قیدیوں پر عائد 136 ملین ریال اس مہم کے ذریعے لوگوں نے ارسال کیے۔

فرجت اسکیم کے تحت رہائی پانے والوں میں سعودی اور غیر ملکی قیدی بھی شامل ہیں، رہائی پانے والے غیر ملکیوں کا تعلق 26 ممالک سے ہے جو مختلف مالی مقدمات میں قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں