The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب : وہ شعبے جس میں غیرملکی کام نہیں کرسکتے

ریاض : سعودی قوانین کے مطابق مملکت میں روز گار کیلیے آنے والے غیر ملکی چار پیشوں میں کوئی کام نہیں کرسکے گا۔

سعودی وزارت افرادی قوت وسماجی بہبود امور کے ماہر ماجد القعیط نے کہا ہے کہ اتوار8 مئی 2022 سے سیکریٹری، ٹرانسلیٹر، اسٹاک کیپر اور ڈیٹا انٹری آپریٹر کے پیشوں میں کسی ایک پر بھی کوئی غیرملکی کام نہیں کرسکتا۔

وزارت نے خبردار کیا ہے کہ جو غیر ملکی ان پیشوں میں سے کسی ایک پر کام کرتا پایا جائے گا اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ اسے قانون کی سو فیصد خلاف ورزی کرنے والا شمار کیا جائے گا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ماجدالقعیط نے کہا کہ چاروں پیشوں کی سو فیصد سعودائزیشن کا اعلان کیا گیا ہے۔

غیر ملکی کارکن دوسری جگہ عارضی طور پر کام کر سکتا ہے؟ سعودی عرب میں قانون محنت کے مطابق غیر ملکی کارکنوں کے لیے لازمی ہے کہ وہ اپنے اسپانسر کے ساتھ ہی کام کریں۔

اسپانسر کے ذمہ کارکن کے جملہ سرکاری امور ہوتے ہیں جنہیں پورا کرنا ضروری ہے، کارکن کو کسی قسم کی پریشانی ہونے کی صورت میں قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے جائز مسائل کے حل کے لیے لیبر آفس سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں