The news is by your side.

Advertisement

شام میں فوج بھیجنے کو تیارہیں، سعودی عرب

ریاض : سعودی عرب نے کہا ہے کہ شام کی صورتحال پرغورکیا جارہا ہے، شام میں فوجی بھیجنے کوتیارہیں۔

تفصیلات کے مطابق سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیرنے ریاض میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ شام میں فوج بھیجنے سے متعلق مشاورت جاری ہے، سعودی عرب امریکا کو مالی سپورٹ دینے کو تیارہے۔

عادل الجبیر نے کہا کہ ’شام کا بحران جب سے شروع ہوا ہے، تب سے ہم فوجی دستوں کو شام بھیجنے کے حوالے سے امریکا سے رابطے میں ہیں۔

سعودی وزیرخارجہ نے زوردیا کہ شام میں فوجیوں کی تعیناتی انسداددہشتگردی کے لئے اسلامی فوجی اتحاد کے فریم ورک کے مطابق ہونا چاہئیے۔

یاد رہے کہ 13 اور 14 اپریل کی درمیانی شب امریکہ نے برطانیہ اور فرانس کے تعاون کے ساتھ شام میں کیمیائی تنصیبات پر میزائل حملے کیے تھے، جس کے نتیجے میں شامی دارالحکومت دمشق دھماکوں کی آوازوں سے گونج اٹھا تھا۔


مزید پڑھیں : شام: سعودی عرب نے امریکی اتحادیوں کے حملوں کی حمایت کردی


سعودی حکومت نے شام میں ہونے والے امریکی اتحادیوں کے حملوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ حملے شامی شہریوں کے تحفظ اور کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو روکنے کے لیے ناگزیر ہوچکے تھے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گتریس نے شام پر امریکا اور اتحادیوں کے فضائی حملوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ خطے کی صورت خراب ہوتی جارہی ہے اور اس کو بہتری کی طرف لانے کا کوئی نظر نہیں آرہا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بشارالاسد کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر شام نے دوبارہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تو امریکہ اس پردوبارہ حملے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

جس پر روسی صدر ولادی میر پیوٹن کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے شام پر دوبارہ میزائل حملے عالمی امن و استحکام کو نقصان پہنچانے اور دنیا میں افرا تفری پھیلانے کا سبب بنیں گے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں