The news is by your side.

Advertisement

سعودی شہریوں نے ریکارڈ خریداری کیوں کی؟

ریاض : سعودی عرب میں مقامی شہریوں اور مقیم غیرملکیوں نے ویلیو ایڈڈ ٹیکس میں پندرہ فیصد اضافے سے حتی الامکان بچنے کے لیے اس ہفتےزیادہ شاپنگ کی ہے۔

سعودی محکمہ زکوۃ و آمدنی نے کہا ہے کہ تمام اشیا و خدمات پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس (واٹ ) پانچ فیصد سے بڑھا کر پندرہ فیصد کرنے کا فیصلہ یکم جولائی 2020 سے نافذ ہوگا۔

سعودی میڈیا کے مطابق محکمہ زکوۃ و آمدنی نے تمام اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ویلیو ایڈڈ ٹیکس پر عمل در آمد کی تاریخ کی پابندی کریں۔

محکمہ زکوۃ و آمدنی نے مقامی شہریوں اور مقیم غیرملکیوں سے کہاہے کہ وہ ویلیو ایڈڈ ٹیکس میں اضافے میں تعاون کریں اگر کسی ادارے کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی خلاف ورزی دیکھنے میں آئے تو پہلی فرصت میں اس سے مطلع کردیا جائے۔

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ ویلیو ایڈڈ ٹیکس میں اضافے کے فیصلے سے سرکاری خزانے کو ابتدائی چھ ماہ کے دوران دس ارب ڈالر کی آمدنی ہوگی۔

معاشی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کورونا بحران کے زمانے میں سرکاری و نجی اداروں کو بھاری خسارے کا سامنا کرنا پڑا، دنیا بھر میں تیل کی طلب کم ہوجانے اور نرخ ریکارڈ حد تک کم ہوجانے کی وجہ سے سرکاری آمدنی بہت کم ہوئی، ویلیو ایڈڈ ٹیکس سے تلافی کی بڑی توقعات ہیں۔

سعودی اخبارات کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ مقامی شہریوں اور مقیم غیرملکیوں نے ویلیو ایڈڈ ٹیکس میں پندرہ فیصد اضافے سے حتی الامکان بچنے کے لیے اس ہفتے زیادہ شاپنگ کی، ایسا سامان جو جلد خراب نہیں ہوتا بڑی تعداد اور مقدار میں خریدا گیا۔

گھریلو سامان فروخت کرنے والے مراکز میں کافی رش دیکھا گیا جبکہ تجارتی مراکز کی جانب سے مختلف قسم کی پیشکشیں بھی کی گئیں۔

ریاض میں گاڑیوں کے تاجر نجم العتیبی نے کہا کہ یہ درست ہے کہ ویلیو ایڈڈ ٹیکس میں اضافے سے قبل صارفین نے زیادہ خریداری کی ہے مگر کوئی خاص خریداری نہیں ہوئی ہے۔

سونے کے تاجر جابر السھاری نے کہا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران سونے اور اس کے زیورات کی طلب میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
سعودی خاتون سارہ نے بتایا کہ معاشی اخراجات بڑھ رہے ہیں۔ میں نے کھانے پینے کی کچھ چیزیں اور درآمدی مشروبات ذخیرہ کرلیے۔ ان سب کی قیمتیں بڑھنے والی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ مہینوں کے دوران خوراک کے ماسوا اشیا کی طلب میں کمی کے باعث افراط زر میں ایک فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔

بعض تجزیہ نگاروں نے توقع ظاہر کی ہے کہ ویلیو ایڈڈ ٹیکس میں اضافے کی وجہ سے جولائی میں سالانہ کی بنیاد پر افراط زر چھ فیصد تک پہنچ جائے گا۔

ایک مصری شہری ابو عمر نے کہا کہ کورونا بحران کے باعث تنخواہوں میں بیس فیصد کمی کے بعد ویلیو ایڈڈ ٹیکس میں اضافہ بھاری پڑے گا، اب مجھے 35 فیصد کم آمدنی میں گزارہ کرنا ہوگا۔ میرے تین بچے ہیں بڑی مشکل ہوگی۔

الرکاز کمپنی کے ایگزیکٹیو چیئرمین عبدالمحسن الفراج نے توقع ظاہر کی کہ حکومت کو سال رواں کے باقی ماندہ مہینوں میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس سے چالیس ارب ریال تک کی آمدنی ہوگی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں