The news is by your side.

سعودی عرب میں گرفتار رضاکاروں پر تشدد اور جنسی ہراساں کیا جاتا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل کا الزام

ریاض: ایمنسٹی انٹرنیشنل نے الزام عائد کیا ہے کہ سعودی عرب میں گرفتار مرد و خواتین رضاکاروں پر دوران تفتیش تشدد اور انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ میں ایمنسٹی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان رضاکاروں کو مغربی بحیرہ احمر کے ساحل پر قائم دھاھبان کی جیل میں قید کیا گیا تھا جہاں ان پر تشدد کیا گیا جس کے باعث ان میں سے بیشتر چلنے سے قاصر ہیں۔

گرفتار کیے جانے والے بیشتر رضاکاروں پر حکام نے ریاست مخالف مہم کا حصہ بننے اور دشمن ممالک سے تعلقات کا الزام لگایا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دئیے جانے سے قبل اپریل میں شروع ہونے والے کریک ڈاؤن میں انسانی حقوق کے متعدد رضاکاروں کو حراست میں لیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: اقوام متحدہ جمال خاشقجی کے قتل کی تحقیقات کرے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

بین الاقوامی گروپ کی یہ رپورٹ ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے صحافی جمال خاشقجی کے استنبول کے سعودی قونصلیٹ میں لرزہ خیز قتل کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔

خیال رہے کہ 2 اکتوبر میں سعودی صحافی جمال خاشقجی استنبول میں سعودی سفارت خانے گئے تھے جہاں انہیں قتل کردیا گیا تھا۔

بیس اکتوبر کو سعودی عرب نے باضابطہ طور پر یہ اعتراف کیا تھا کہ صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں قائم سفارت خانے کے اندر جھگڑے کے دوران قتل کیا گیا۔

یاد رہے کہ غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اقوام متحدہ سے دی واشنگٹن پوسٹ سے منسلک سعودی صحافی کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں