The news is by your side.

Advertisement

دفاتر میں سفارش کے کلچر سے سعودی حکومت پریشان

ریاض: سعودی عرب میں ’سفارش‘ کو بدعنوانی کی جڑ تسلیم کرتے ہوئے اس کی بیخ کنی کے لیے قرارداد منظور کرلی گئی۔

سعودی ویب سائٹ کے مطابق گزشتہ روز ارکان شوریٰ نے انسداد بدعنوانی کے حوالے سے سب سے اہم قرارداد منظور کی جس کے تحت کنٹرول اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ سرکاری اداروں سے سفارش کا خاتمہ کروائے گا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ ایسا ہوگا تب ہی سرکاری اداروں میں مقامی شہریوں کو ملازمتیں شفاف بنیادوں پر مل سکیں گی اور سرکاری خدمات میں انصاف اور شفافیت کا فروغ ہوگا۔

شوریٰ کی خاتون رکن ڈاکٹر اقبال درندری نے کنٹرول اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ سے متعلق مالیاتی سال کی رپورٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ کنٹرول اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ سفارش کی بیخ کنی کے لیے ضروری تدابیر اختیار کرے اور سفارش کے نقصانات سے متعلق آگہی مہم چلائے۔

انہوں نے کہا کہ اس کلچر کے مکمل خاتمے کے لیے جامع نظام تشکیل دیا جائے۔ ایسا کر کے ہی ہم سرکاری اداروں کی ملازمتوں اور خدمات میں شفافیت اور انصاف کا مشن مکمل کرسکتے ہیں۔

ایک رکن شوریٰ نے سوال اٹھایا کہ کنٹرول اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ نے سرکاری اداروں میں ملازمت کے حوالے سے سفارش کے سدباب کے لیے کیا کیا؟

انہوں نے توجہ دلائی کہ آئندہ کنٹرول اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ اپنے بجٹ اور اس کے اخراجات کی تفصیلات تحریر کرتے وقت اس قسم کے سوالات کے جواب دینے کا بھی اہتمام کرے۔

ایک اور رکن شوریٰ نے واضح کیا کہ کنٹرول اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ کے بعض قوانین مبہم ہیں۔

شوریٰ کے اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ مختلف سرکاری اداروں میں نگراں شعبوں کی کارکردگی کی رپورٹ تیار کی جائے اور ان شعبوں کی کارکردگی کے قواعد و ضوابط متعین ہوں تاکہ ان کی بنیاد پر ان شعبوں کی کوتاہی کی نشاندہی کی جاسکے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں سفارش کو ’واسطہ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں