The news is by your side.

Advertisement

نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے خوشخبری ، سعودی عرب کا بڑا اعلان

نوجوان لڑکے لڑکیوں کو 55 ہزار ملازمتیں فراہم کی جائیں گی

ریاض : سعودی عرب میں عنقریب نئی شرائط کے ساتھ ورک ویزوں کے اجراء کا اعلان کیا جائے گا، وزیر محنت کا کہنا ہے کہ نوجوان لڑکے لڑکیوں کو 55  ہزار ملازمتیں فراہم کی جائیں گی، اس سلسلے میں صحت اور زراعت کے سیکٹروں میں متعدد منصوبوں پر دستخط کردیئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں محنت اور سماجی ترقی کے وزیر احمد الراجحی نے تصدیق کی ہے کہ ان کی وزارت نے 68 منصوبوں کو اختتام تک پہنچایا ہے، جن پر گذشتہ چند ماہ کے دوران کام کیا گیا، اس وقت نجی سیکٹر کے کام آنے والے 32 منصوبوں کے آغاز کے لیے کام ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صحت اور زراعت کے سیکٹروں میں متعدد منصوبوں پر دستخط کیے گئے ہیں تاکہ نجی سیکٹر میں نوجوان لڑکے لڑکیوں کو 55 ہزار ملازمتیں فراہم کی جا سکیں، مملکت میں 1000 ریکروٹنگ بیوروز اور 35 ریکروٹنگ کمپنیاں مصروف عمل ہیں ، عنقریب نئی شرائط کے ساتھ ورک ویزوں کے اجراء کا کیا جائے گا۔

میڈیارپورٹس کے مطابق حائل میں سعودی چیمبرز میں ایک کھلی ملاقات کے دوران الراجحی نے بتایا کہ وزارت محنت نے کاروباری سیکٹر میں خدمات پیش کرنے کے لیے قوی کے نام سے ایک پلیٹ فارم کا آغاز کیا ہے، اس حوالے سے خدمات کی مجموعی تعداد 120 تک ہے جن میں 70 خدمات اس وقت کام کر رہی ہیں۔ بقیہ خدمات کو آئندہ پانچ ماہ کے دوران پایہ تکمیل تک پہنچا دیا جائے گا۔

الراجحی کے مطابق آئندہ ماہ سے مذکورہ پلیٹ فارم کے ذریعے تاسیسی ویزوں کا اجرا عمل میں آئے گا، ان ویزوں کے حصول کے لیے ادارے میں کسی سعودی کی موجودگی لازم نہیں ہوگی جبکہ نئے ادارے یا کمپنی کو تاسیس کے لیے 12 ماہ کی مہلت دی جائے گی اور اس سلسلے میں سعودیوں کی بھرتی کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔

محنت اور سماجی ترقی کے سعودی وزیر نے بتایا کہ ان کی وزارت نجی سیکٹر کے ساتھ مل کر شراکت اور ربط کے بنیادی اصولوں پر کام کر رہی ہے تا کہ روزگار کی منڈی کے واسطے دیرپا اور بارآور نتائج کو یقینی بنایا جا سکے، اس طرح کاروباری سیکٹر کو بھی مضبوطی اور استحکام ملے گا۔

احمد الراجحی کے مطابق وزارت محنت کی جانب سے تیار کردہ پروگرام اور منصوبوں کا مقصد سعودی مرد اور خواتین شہریوں کو نجی سیکٹر کے اداروں میں روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے تا کہ اقتصادی ترقی میں ان کی شرکت کی سطح بلند کی جا سکے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں