مکہ کرین حادثے کی تحقیقات مکمل،14افراد کو مقدمے کا سامنا -
The news is by your side.

Advertisement

مکہ کرین حادثے کی تحقیقات مکمل،14افراد کو مقدمے کا سامنا

جدہ: مکہ کرین حادثے میں سعودی عرب کے چھ افراد سمیت چودہ افراد کے خلاف مقدمہ چلایا جائےگا.

تفصیلات کےمطابق سعودی عرب میں بیورو آف انوسٹی گیشن اینڈ پبلک پروٹیکشن نے 290 روز بعد مکہ کرین حادثے کی تحقیقات مکمل کرلیں.جس کے بعد مکہ کرین حادثے میں سعودی عرب کے 6،پاکستان،فلپائن،اردن، فلسطین ،کینیڈااور متحدہ عرب امارات کے ایک ایک شہری کے خلاف مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا گیا.

ان افراد پربنیادی طور پر غفلت،قتل اور لوگوں کو زخمی کرنے کے الزامات ہیں تاہم فیصلہ عدالتی کارروائی کے بعد ہی سنایا جائے گا.

یاد رہے کہ گزشتہ برس گیارہ ستمبرکوہونے والے حادثے میں 111حاجی شہید اور 210زخمی ہوگئے تھے.

عرب نیوز کے مطابق بیورو آف انوسٹی گیشن اینڈ پبلک پروٹیکشن نے تحقیقات کے لیے ام القرا یونیورسٹی کی تکنیکی کمیٹی کے ارکان کی خدمات بھی حاصل کیں جس کے بعد ذمہ داروں کے خلاف کارروائی آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا.

تحقیقات کے دوران پراجیکٹ منیجر،سول انجینئر اور دیگر حکام سے بھی پوچھ گچھ کی گئی اورسانحہ کے حوالے سے تکنیکی رپورٹس کا جائزہ بھی لیاگیا.

بن لادن گروپ کے ایک سو ستر سے زائد کارکنوں،انجینئروں اور ماہرین سے بھی سوال جواب کیے گئے،تحیققات کے بعد چودہ افراد کو واقعہ کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے جو قتل کے الزامات کا سامنا کریں گے.

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ذمہ دار قرار دیے گئے افراد نہ سیفٹی رولز کا علم نہیں رکھتے تھے،انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ بدلتے موسمی حالات میں دوسو میٹر بلند اور ایک ہزار تین سو پچاس ٹن وزنی کرین کو کس طرح آپریٹ کیا جاتا ہے.

یاد رہے کہ سعودی بادشاہ کی جانب سے کرین حادثے میں شہید ہونے والے افراد کے لیے دس لاکھ ریال کی رقم دینے کا اعلان کیا تھا.

واضح رہے کہ مکہ کرین حادثے میں چھ پاکستانیوں سمیت 111 حاجی شہید ہوئے تھے.

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں