سعودی عرب یمن جنگ کا سیاسی حل مذاکرات سے چاہتی ہے، خالد بن سلمان Yamen war
The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب یمن جنگ کا سیاسی حل مذاکرات سے چاہتا ہے، خالد بن سلمان

ریاض/واشنگٹن : سعودی سفیر خالد بن سلمان نے یمن جنگ سے متعلق کہا ہے کہ سعودی اتحادی افواج حوثی جنگجوؤں کی ٹال مٹول کے باوجود بحران کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق امریکا میں تعینات سعودی عرب کے سفیر خالد بن سلمان نے حوثیوں اور یمن کی آئینی حکومت کے در میان ہونے والے مذاکرات سے متعلق پیغام میں کہا ہے کہ سعودی عرب یمن میں جاری سیاسی بحران کا پُر امن حل چاہتا ہے۔

خالد بن سلمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ میں کہا کہ سعودی حکومت حوثیوں کے مسلسل ٹال مٹول کے باوجود یمن کے سیاسی بحران کو مذاکرات کےذریعے حل پر پُرامید ہے۔

سعودی سفر کا کہنا تھا کہ عرب اتحاد حوثیوں کے خلاف مسلح کاررروائیوں کے ذریعے کئی مقاصد حاصل کرچکی ہے۔

امریکا میں تعینات سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب و عرب اتحادنے ہمیشہ حوثی جنگجوؤں سے مذاکرات اور اقوام متحدہ کی قرار داد 2216 کے نفاذ پر زور دیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ یمنی حکومت کا ایک وفد اقوام متحدہ کے تحت ہونے والے امن مذاکرات کے لیے سویڈن روانہ ہوگیا ہے جبکہ حوثیوں کا وفد اقوام متحدہ کے سفیر برائے یمن مارٹن گریفتھس خصوصی طیارے کے ذریعے سویڈن پہنچ چکے ہیں۔

خیال رہے کہ یمنی حکومت اور حوثیوں کے درمیان سنہ 2016 کے بعد سے یہ پہلے امن مذاکرات ہیں جس کے آغاز کی تاریخوں کا اعلان تاحال نہیں کیا گیا تاہم بااثر ذرائع کے مطابق جمعرات کے روز امن مذاکرات کا آغاز ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ یمن پر حکومت کی جنگ کے دونوں فریقین کے مابین ہونے والے امن مذاکرات آسان نہیں ہوں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں